اس کے نور کو نابود نہ کر سکی سو خدا نے جو ہر ایک کام نرمی سے کرتا ہے اس زمانہ کے لئے سب سے پہلے میرا نام عیسیٰ ابن مریم رکھا کیونکہ ضرور تھا کہ میں اپنے ابتدائی زمانہ میں ابن مریم کی طرح قوم کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھاؤں اور کافر اور ملعون اور دجّال کہلاؤں اور عدالتوں میں کھینچا جاؤں سو میرے لئے ابن مریم ہونا پہلا زینہ تھا مگر میں خدا کے دفتر میں صرف عیسیٰ ابن مریم کے نام سے موسوم نہیں بلکہ اور بھی میرے نام ہیں جو آج سے چھبیس ۲۶برس پہلے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرے ہاتھ سے لکھا دیئے ہیں اور دنیا میں کوئی نبی نہیں گذرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایاہے ۔ میں آدمؑ ہوں۔ میں نوحؑ ہوں۔ میں ابراہیمؑ ہوں۔میںؔ اسحاقؑ ہوں۔ میں یعقوبؑ ہوں۔ میں اسمٰعیلؑ ہوں۔ میں موسٰیؑ ہوں۔ میں داؤدؑ ہوں، میں عیسٰیؑ ابن مریم ہوں۔ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدانے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء فرمایا یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔ سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جاوے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو۔ مگر خدا نے یہی پسند کیا کہ سب سے پہلے ابن مریم کے صفات مجھ میں ظاہر کرے۔ سو میں نے اپنی قوم سے وہ سب دُکھ اُٹھائے جو ابن مریم نے یہود سے اُٹھائے بلکہ تمام قوموں سے اُٹھائے۔ یہ سب کچھ ہوا مگر پھر خدا نے کسر صلیب کے لئے میرا نام مسیح قائم رکھا تا جس صلیب نے مسیح کو توڑا تھا اور اس کو زخمی کیا تھا دوسرے وقت میں مسیح اس کو توڑے مگر آسمانی نشانوں کے ساتھ نہ انسانی ہاتھوں کے ساتھ۔ کیونکہ خدا کے نبی مغلوب نہیں رہ سکتے سو سنہ عیسوی کی بیسویں۲۰۰۰ صدی میں پھر خدا نے ارادہ فرمایا کہ صلیب کو مسیح کے ہاتھ سے مغلوب کرے لیکن جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں مجھے اور نام بھی دیئے گئے ہیں اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گذرا ہے جس کو رُدّر گوپال بھی کہتے ہیں (یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن مَیں ہی ہوں