میرا گناہ کیا ہے میں اُس کو گھسیٹوں گا اوراس ؔ کو دوزخ دکھلاؤں گا یعنی عیسیٰ ابن مریم کے ظہور سے تو لوگ کچھ بھی متنبہ نہ ہوئے اب میں اپنے اس بندہ کو موسیٰ * کی صفات میں ظاہر کروں گا اور فرعون اور ہامان کو وہ دن دکھاؤں گا جس سے وہ ڈرتے تھے۔ سو اے عزیزو! مدت تک میں مسیح ابن مریم کے رنگ میں دُکھ اُٹھاتا رہا اور جو کچھ قوم نے کرنا چاہا میرے ساتھ کیا اب خدا میرا نام موسیٰ رکھتا ہے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ مقابل کے لوگوں کا نام اُس نے فرعون رکھا ہے اور یہ نام آج سے نہیں بلکہ اِس بات پرچھبیس۲۶برس گزرے ہیں۔ جبکہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام موسیٰ رکھ کر فرمایا انت منّی بمنزلۃ موسیٰ ۔اور پھر اِسی براہین احمدیہ میں میرا نام موسیٰ رکھ کر فرمایا ولمّا تجلّٰی ربّہ للجبل جعلہ دکًّا وخرّ مُوسٰی صعقا۔مگرچونکہ خدا نے ابتدا نرمی سے کی اور اپنی بُرد باری کو پورے طور پر دکھلایا اس لئے میرا نام ابنِ مریم رکھا گیا کیونکہ ابن مریم اپنی قوم سے کوفتہ خاطر رہا اور اس کو بہت دُکھ دیا گیا اور ستایا گیا اور عدالتوں کی طرف اس کو کھینچا گیا اور اُس کا نام کافر اور مکّار اور ملعون اور دجّال رکھا گیا اور نہ صرف اِسی پر کفایت کی گئی بلکہ یہ چاہا گیا کہ اس کو قتل کر دیاجائے مگر چونکہ وہ خدا کابرگزیدہ تھا اور اُن لوگوں میں سے تھا جن کے ساتھ خدا ہوتا ہے اس لئے وہ خبیث قوم * یہ الہام ۱۵؍مارچ ۱۹۰۷ء جو ۲۲؍ مارچ کو اخبار بدر میں شائع ہو چکا ہے اور بعد میں بھی۔ اس کی عبارت یہ ہے ایک موسیٰ ہے میں اُس کو ظاہر کروں گا اور لوگوں کے سامنے اُس کو عزت دوں گا بلجت آیاتی۔ تلک آیات ظھرت بعضھا خلف بعض اجرّ الا ثیم واریہ الجحیم۔ انی اٰ ثرتک واخترتک (ترجمہ) میرے نشان روشن ہوں گے بعض نشان بعض کے بعد ظہور میں آئیں گے تا اِس موسیٰ کی عزت ظاہرکی جائے۔ پر جس نے میرا گناہ کیا ہے میں اُس کو گھسیٹوں گا اور اُس کو دوزخ دکھلاؤں گا۔ میں نے تجھ کوچُن لیا اور اختیار کیا۔ تیری عاجز انہ راہیں مجھے پسند آئیں۔ میرا دشمن ہلاک ہو گیا۔ انّ اللّٰہ مع الصادقین۔ خدا سچوں کے ساتھ ہے۔ یہ پیشگوئی کھلے طور پر بابو الٰہی بخش اکونٹنٹ کی نسبت ہے جو ۷؍مارچ ۱۹۰۷ء* کو طاعون سے فوت ہو گیا کیونکہ اُس نے موسیٰ ہونے کادعویٰ کیا تھا سو خدا فرماتا ہے کہ موسیٰ ایک ہی اس زمانہ میں ہے جس کو میں نے موسیٰ بنایا۔ پر وہ شخص جو خود بخود موسیٰ بن گیا وہ ہلاک ہوگا تا صادق اور کاذب میں فرق ظاہر ہو جائے چنانچہ طاعون جو دوزخ کا ایک نمونہ ہے اس میں بابو مذکور گرفتار ہو کر اس دارفانی کو تاریخ ۷؍مارچ ۱۹۰۷ء* میں چھوڑگیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔ منہ * ۷؍مارچ ۱۹۰۷ء سہوکتابت ہے۔ درست ۷؍اپریل ۱۹۰۷ء ہے جس کی تصدیق اسی کتاب کے صفحہ ۵۴۰ اور صفحہ ۵۴۴ سے ہوتی ہے۔ (ناشر)