دیکھا گیا ہے۔ پس یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ تنبیہ کے طور پر ان ممالک میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آگ برسی ہے جیسا کہ میں نے شائع کیا تھا کہ آسمان اے غافلو اب آگ برسانے کو ہے سو خدا نے یہ پیشگوئی پوری کی۔ اگرچہ اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا صرف بعض آدمی بے ہوش ہو گئے مگر یہ آگ کی بارش آئندہ کسی بڑے عذاب کی خبر دے رہی ہے۔ اے سننے والو !ہوشیار ہو جاؤ بعد میں پچھتاؤ گے یہ ایک نشان ان نشانوں میں سے ہے جن کی خدا نے مجھے خبر دی اور فرمایا تھا کہ میں ساٹھ یا ستر اور نشان دکھلاؤں گا اور آخری نشان یہ ہوگا کہ زمین کو تہ و بالا کر دیا جائے گا اور ایک ہی دَم میں لاکھوں انسان مر جائیں گے۔ کیونکہ لوگوں نے اس کے فرستادہ کو قبول نہ کیا۔ ہولناک زلزلے آئیں گے اور ہولناک طورپرموتیں وقوع میں آئیں گی۔ اور نئے نئے طور پر عذاب نازل ہوں گے۔ یہاں تک کہ انسان کہے گا کہ یہ کیا ہونے والا ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوگا کہ زمین مر گئی اور انسانوں نے خدا کے نشان دیکھے اور پھر ان کو قبول نہ کیا۔ وہ اُن کیڑوں سے بد تر ہو گئے جونجاست میں ہوتے ہیں اور خدا کے وجود پر ان کا ایمان نہ رہا اس لئے خدا فرماتا ہے کہ میں ایک ہولناک تجلّی کروں گا اور خوفناک نشان دکھاؤں گا اور لاکھوں کو زمین پر سے مٹا دوں گا مگر کون ہے جو ہم پر ایمان لایا اور کس نے ہماری یہ باتیں قبول کیں۔
آج سے چھبیس ۲۶برس پہلے خدائے عزّوجلّ براہین احمدیہ میں فرما چکا ہے۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اور اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا ۔ سو اُن حملوں میں سے یہ آتشی انگار بھی ہیں جن کی اِس ملک میں بارش ہوئی یہ اسی قسم کے نشان ہیں جیسا کہ موسیٰ نبی نے فرعون کے سامنے دکھائے تھے بلکہ وہ نشان جو ظاہر ہو نے والے ہیں وہ موسیٰ نبی کے نشانوں سے بڑھ کر ہوں گے۔ اس لئے خدا میرا نام موسیٰ رکھ کر فرماتا ہے۔ ایک موسیٰ ہے کہ مَیں اُس کو ظاہر کروں گا اور لوگوں کے سامنے اُس کو عزت دوں گا پر جس نے