ہیں۔مگر یہ سوال کہ وہ واقعہ کیا ہے جس کی پیشگوئی کی گئی ہے اس کا ہم اس وقت کوئی جواب نہیں دے سکتے بجز اس کے کہ یہ کہیں کہ کوئی ہولناک یا تعجب انگیز واقعہ ہے کہ ظہور کے بعد پیشگوئی کےؔ رنگ میں ثابت ہوجائے گا۔ دیکھو پرچہ اخبار بدر ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۷ء پہلا اور دوسرا کالم۔
اس کے بعد جس رنگ میں یہ پیشگوئی ظہور میں آئی وہ یہ ہے کہ ٹھیک ٹھیک ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۷ء کو جس پر ۷؍ مارچ سے۲۵ دن ختم ہوتے ہیں ایک بڑا شعلہ آگ کا جس سے دل کانپ اُٹھے آسمان پر ظاہر ہوا اور ایک ہولناک چمک کے ساتھ قریباً سات ۷۰۰سو میل کے فاصلہ تک(جو اب تک معلوم ہو چکا ہے یا اس سے بھی زیادہ) جا بجا زمین پر گرتا دیکھا گیا اور ایسے ہولناک طور پر گرا کہ ہزارہا مخلوقِ خدا اُس کے نظارہ سے حیران ہو گئی اور بعض بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے اور جب ان کے مُنہ میں پانی ڈالا گیا تب ان کو ہوش آئی۔ اکثر لوگوں کا یہی بیان ہے کہ وہ آگ کا ایک آتشی گولہ تھاجو نہایت مہیب اور غیرمعمولی صورت میں نمودار ہوا اور ایسا دکھائی دیتا تھا کہ وہ زمین پر گرا اور پھر دُھواں ہو کر آسمان پر چڑھ گیا۔ بعض کا یہ بھی بیان ہے کہ دُم کی طرح اس کے ایک حصہ میں دُھواں تھا اور اکثر لوگوں کا بیان ہے کہ وہ ایک ہولناک آگ تھی جو شمال کی طرف سے آئی اور جنوب کو گئی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جنوب کی طرف سے آئی اور شمال کو گئی اور قریب ساڑھے پانچ بجے شام کے اِس وقوعہ کا وقت تھا اور بعض کا بیان ہے کہ آسمان پر مغرب کی طرف سے ایک بڑا سا انگارا نمودار ہوا اور پھر مشرق کی طرف نہایت نمایاں اور خوفناک طور پر دور تک چلا گیا اور زمین کے اس قدر قریب آجاتا تھا کہ ہر جگہ دیکھنے والوں کا یہی خیال تھا کہ اب گرا اب گرا۔ اور بڑی بڑی عمر کے آدمیوں نے یہ گواہی دی کہ اس قسم کا واقعہ مہیب اور ہولناک انہوں نے کبھی نہیں دیکھا اور جہاں جہاں سے ہمارے پاس خط پہنچے ہیں جن کا خلاصہ ہم نے شہادتوں کے طور پر ہر ایک مقام کے متعلق اس مضمون کے ساتھ شامل کر دیا ہے وہ بہت سے مقام ہیں منجملہ اُن کے کشمیر۔ راولپنڈی۔ پنڈی گھیپ۔ جہلم۔ گجرات۔ گوجرانوالہ۔ سیالکوٹ۔ وزیر آباد۔ امرتسر۔ لاہور۔ فیروزپور۔ جالندھر۔ بسی سرہند۔ پٹیالہ۔ کانگڑہ۔ بھیرہ۔ خوشاب وغیرہ ہیں۔ اور ایک صاحب خدا بخش نام راولپنڈی سے لکھتے ہیں کہ یہ آگ کانشان ہندوستان میں بھی