آسماؔ ن بارد نشان الوقت میگوید زمین این دو شاہد از پئے تصدیق من استادہ اند نشان نمبر ۱۹۷ روشن نشان پرچہ اخباربدر مورخہ ۱۴؍ مارچ ۱۹۰۷ء مطابق ۲۸؍ محرم ۱۳۲۵ ھ میں ایک الہام شائع ہوا تھا جو ۷؍ مارچ ۱۹۰۷ء کو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر پیشگوئی کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا اور اس کی نسبت جو تفہیم ہوئی تھی وہ بھی اسی پرچہ ۱۴؍ مارچ میں درج کردی گئی تھی اور وہ الہام یہ ہے جو کہ اخبار مذکور کے صفحہ ۳ کے پہلے کالم میں درج کیا گیا ہے پچیس۲۵ دن یا یہ کہ پچیس ۲۵ دن تک یعنی ۷؍ مارچ ۱۹۰۷ء سے پچیسو۲۵یں دن یا یہ کہ ۲۵ دن تک جو ۳۱؍ مارچ ہوتی ہے کوئی نیا واقعہ ظاہر ہونے والا ہے اور اس الہام میں جو تفہیم ہوئی تھی وہ اسی کالم میں مندرجہ ذیل عبارت میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ الہام میںیہ اشارہ ہے کہ ۷؍ مارچ ۱۹۰۷ء سے پچیس دن پورے ہونے کے سر پر یا ۷؍ مارچ سے پچیس۲۵ دن تک کوئی نیا واقعہ ظاہر ہوگا اور ضرور ہے کہ تقدیر الٰہی اس واقعہ کو روک رکھے جب تک کہ سات مارچ ۱۹۰۷ء سے ۲۵ دن گذر نہ جاویں یا یہ کہ ۷؍ مارچ سے ۲۵ دن تک یہ واقعہ ظہور میں آجائے گا۔ اگر صرف ۲۵ دن کے لحاظ سے معنی کئے جاویں تو اس طور سے ضرور ہے کہ اس واقعہ کے ظہور کی یکم اپریل سے امید رکھی *جائے کیونکہ الہام الٰہی کی رو سے ساتویں مارچ پچیسویں دن کے شمار میں داخل ہے۔ اس صورت میں پچیس۲۵ دن مارچ کے اکتیسو۳۱یں دن تک پورے ہوجاتے * یہ مؤخر الذکر تشریح جس پر خط کھینچ دیا گیا ہے صرف اجتہادی طور پر ہے تفہیم الٰہی صرف اس قدر ہے کہ ۷؍ مارچ ۱۹۰۷ء سے ۲۵ دن پورے ہونے کے سر پر یا ۷؍ مارچ سے ۲۵ دن تک جو ۳۱؍ مارچ تک ختم ہوجاتے ہیں کوئی نیا واقعہ ظاہر ہوگا۔ منہ