ؔ لیکن چونکہ میں نے صدہا اخباروں میں پہلے سے شائع کرا دیا* تھا کہ وہ میری زندگی میں ہی ہلاک ہوگا میں مسیح موعود ہوں اور ڈوئی کذّاب ہے اور بار بار لکھا کہ اس پر یہ دلیل ہے کہ وہ میری زندگی میں ذلت اور حسرت کے ساتھ ہلاک ہو جائے گا چنانچہ وہ میری زندگی میں ہی ہلاک ہو گیا۔ ا س سے زیادہ کھلا کھلا معجزہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو سچا کرتا ہے اور کیا ہوگا؟ اب وہی اِس سے انکار کرے گا جو سچائی کا دشمن ہوگا۔ والسّلام علٰی من اتّبع الھُدیٰ۔ المشتھر میرزا غلام احمد مسیح موعود ازمقام قادیان ضلع گورداسپور پنجاب۔ ۷؍اپریل ۱۹۰۷ء * امریکہ کے ایک اخبار نے خوب یہ لطیفہ لکھا ہے کہ ڈوئی مباہلہ کی درخواست کو تو قبول ضرور کرے گا۔ مگر کسی قدر ترمیم کے بعد اور وہ یہ کہ ڈوئی کہے گا کہ میں اس طرح کا مباہلہ تو منظور نہیں کرتا کہ کاذب صادق کے سامنے ہلاک ہو جائے ہاں یہ منظور کرتا ہوں کہ گالیاں دینے میں مقابلہ کیا جائے۔ پھر جو شخص گالیاں دینے میں بڑھ کر نکلے گا اور اول درجہ پر رہے گا اُس کو سچا سمجھا جائے۔ منہ