اورؔ میں ہمیشہ اس بارہ میں خدا تعالیٰ سے دُعا کرتا تھا اور کاذب کی موت چاہتا تھا چنانچہ کئی دفعہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تو غالب *ہوگا اور دشمن ہلاک کیا جائے گا اور پھر ڈوئی کے مرنے سے قریباً پندرہ ۱۵دن پہلے خدا تعالیٰ نے اپنی کلام کے ذریعہ سے مجھے میری فتح کی اطلاع بخشی جس کو میں اس رسالہ میں جس کا نام ہے قادیان کے آریہ اور ہم اس کے ٹائٹل پیج کے پہلے ورق کے دوسرے صفحہ میں ڈوئی کی موت سے قریباً دو ہفتہ پہلے شائع کر چکا ہوں اور وہ یہ ہے۔
تازہ نشان کی پیشگوئی
خدا فرماتا ہے کہ میں ایک تازہ نشان ظاہر کروں گا جس میں فتح عظیم ہوگی وہ تمام دنیا کے لئے ایک نشان ہوگا (یعنی ظہور اس کا صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہوگا) اور خدا کے ہاتھوں سے اور آسمان سے ہوگا چاہئے کہ ہر ایک آنکھ اس کی منتظر رہے۔ کیونکہ خدا اس کو عنقریب ظاہر کرے گا تا وہ یہ گواہی دے کہ یہ عاجز جس کو تمام قومیں گالیاں دے رہی ہیں اس کی طرف سے ہے مبارک وہ جو اس سے فائدہ اُٹھاوے
المشتھر
میرزا غلام احمد مسیح موعود۔ مشتہرہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۷ء
* حاشیہ۔ ۹؍فروری ۱۹۰۷ء کومجھے یہ الہام ہوا کہ انک انت الاعلٰی یعنی غلبہ تجھی کو ہوگا۔ اور پھر اسی تاریخ مجھے یہ الہام ہوا العید الاٰخرتنال منہ فتحًا عظیمًا یعنی ایک اور خوشی کا نشان تجھ کو ملے گا جس سے ایک بڑی فتح تیری ہوگی۔ جس میں یہ تفہیم ہوئی کہ ممالک مشرقیہ میں تو سعد اللہ لدہانوی میری پیشگوئی اور مباہلہ کے بعد جنوری کے پہلے ہفتہ میں ہی نمونیا پلیگ سے مر گیا۔ یہ توپہلا نشان تھا اور دوسرا نشان اِس سے بہت ہی بڑا ہوگا جس میں فتح عظیم ہوگی۔ سو وہ ڈوئی کی موت ہے جو ممالک مغربیہ میں ظہور میں آئی۔ دیکھو پرچہ اخبار بدر ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ء اس سے خدا تعالیٰ کا وہ الہام پورا ہوا کہ میں دو نشان دکھاؤں گا۔ منہ