ابؔ ظاہر ہے کہ ایسا نشان (جو فتح عظیم کا موجب ہے) جو تمام دنیا ایشیا اور امریکہ اور یورپ اور ہندوستان کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو سکتا ہے وہ یہی ڈوئی کے مرنے کا نشان ہے۔* کیونکہ اور نشان جو میری پیشگوئیوں سے ظاہر ہوئے ہیں وہ تو پنجاب اور ہندوستان تک ہی محدود تھے اور امریکہ اور یورپ کے کسی شخص کو اُن کے ظہور کی خبر نہ تھی۔ لیکن یہ نشان پنجاب سے بصورت پیشگوئی ظاہر ہو کر امریکہ میں جاکر ایسے شخص کے حق میں پورا ہوا جس کو امریکہ اور یورپ کا فرد فرد جانتا تھا اور اُس کے مرنے کے ساتھ ہی بذریعہ تاروں کے اُس مُلک کے انگریزی اخباروں کو خبر دی گئی چنانچہ پایونیر نے (جو الہ آباد سے نکلتا ہے) پرچہ ۱۱؍مارچ ۱۹۰۷ء میں اور سول اینڈ ملٹری گزٹ نے (جولاہور سے نکلتا ہے) پرچہ ۱۲؍مارچ ۱۹۰۷ء میں اور انڈین ڈیلی ٹیلیگراف نے (جو لکھنؤ سے نکلتا ہے) پرچہ ۱۲؍مارچ ۱۹۰۷ء میں اس خبر کو شائع کیا ہے۔ پس اس طرح پر قریباً تمام دنیا میں یہ خبر شائع کی گئی اور خود یہ شخص اپنی دنیوی حیثیت کی رو سے ایسا تھا کہ عظیم الشان نوابوں اور شاہزادوں کی طرح مانا جاتا تھا۔ چنانچہ وِب نے جو امریکہ میں مسلمان ہو گیا ہے میری طرف اس کے بارہ میں ایک چٹھی لکھی تھی کہ ڈاکٹر ڈوئی اس ملک میں نہایت معززانہ اور شاہزادوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔ اور باوجود اِس عزت اور شہرت کے جو امریکہ اور یورپ میں اُس کو حاصل تھی
خدا تعالیٰ
* ڈوئی اِس پیشگوئی کے بعد اس قدر جلد مر گیا کہ ابھی پندرہ ۱۵دن ہی اس کی اشاعت پر گذرے تھے کہ ڈوئی کا خاتمہ ہو گیا پس ایک طالب حق کے لئے یہ ایک قطعی دلیل ہے کہ یہ پیشگوئی خاص ڈوئی کے بارے میں تھی کیونکہ اوّل تو اس پیشگوئی میں یہ لکھا ہے کہ وہ فتح عظیم کا نشان تمام دنیا کے لئے ہوگا اور دوسرے یہ لکھا ہے کہ وہ عنقریب ظاہر ہونے والا ہے پس اس سے زیادہ عنقریب اور کیا ہوگا کہ اس پیشگوئی کے بعد بد قسمت ڈوئی اپنی زندگی کے بیس دن بھی پورے نہ کر سکا اور خاک میں جا ملا جن پادری صاحبان نے آتھم کے بارے میں شور مچایا تھا اب اُن کو ڈوئی کی موت پر ضرور غور کرنی چاہئے۔ منہ
ؔ