نوشتوں میں اس کا وعدہ تھا اور نیز میں نے اس میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر ڈوئی اپنے دعویٰ رسول ہونے اور تثلیث کے عقیدہ میں جھوٹاہے اگروہ مجھ سے مباہلہ کرے تو میری زندگی میں ہی بہت سی حسرت اور دُکھ کے ساتھ مرے گا۔ اور اگر مباہلہ بھی نہ کرے تب بھی وہ خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ اس کے جواب میں بد قسمت ڈوئی نے دسمبر ۱۹۰۳ء کے کسی پرچہ میں اور نیز ۲۶؍ستمبر ۱۹۰۳ء وغیرہ کے اپنے پرچوں میں اپنی طرف سے یہ چند سطریں انگریزی میں شائع کیں جن کا ترجمہ ذیل میں ہے:۔ ’’ہندوستان میں ایک بیوقوف محمدی مسیح ہے جو مجھے بار بار لکھتا ہے کہ مسیح یسوع کی قبر کشمیر میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو اس کا جواب کیوں نہیں دیتا اور کہ تو کیوں اس شخص کا جواب نہیں دیتا مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا اگر میں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو میں ان کو کچل کر مار ڈالوں گا۔‘‘ اور پھر پرچہ ۱۹؍دسمبر ۱۹۰۲ء میں لکھتا ہے کہ ’’میرا کام یہ ہے کہ میں مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے لوگوں کو جمع کروں اور مسیحیوں کو اس شہر اور دوسرے شہروں میں آباد کروں یہاں تک کہ وہ دن آجائے کہ مذہب محمدی دنیا سے مٹایا جائے۔ اے خدا ہمیں وہ وقت دکھلا۔‘‘ غرض یہ شخص میرے مضمون مباہلہ کے بعد جو یورپ اور امریکہ اور اس مُلک میں شائع ہو چکا تھا بلکہ تمام دنیا میں شائع ہو گیا تھا شوخی میں روز بروز بڑھتا گیا اور اس طرف مجھے یہ انتظار تھی کہ جو کچھ میں نے اپنی نسبت اور اُس کی نسبت خدا تعالیٰ سے فیصلہ چاہا ہے ضرور خدا تعالیٰ سچا فیصلہ کرے گا اور خدا تعالیٰ کا فیصلہ کاذب اور صادق میں فرق کرکے دکھلا دے گا * ۔ * اس اشتہار کے صفحہ ۳ کو پڑھو جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ۲۳؍اگست ۱۹۰۳ء کو بزبان انگریزی میں نے ڈوئی کے مقابل پر ایک اشتہار شائع کیا تھا اور خدا تعالیٰ سے الہام پاکر اس میں لکھاتھا کہ خواہ ڈوئی میرے ساتھ مباہلہ کرے یا نہ کرے وہ خداکے عذاب سے نہیں بچے گا اور خدا جھوٹے اور سچے میں فیصلہ کرکے دکھلا دے گا۔ منہ