اورؔ اس مضمون مباہلہ میں مَیں نے جھوٹے پر بد دعا بھی کی تھی*اور خدا تعالیٰ سے یہ چاہا تھا کہ خدا جھوٹے کا جھوٹ اپنے فیصلہ سے کھول دے۔ اور یہ میرا مضمون مباہلہ کا جیسا کہ ابھی لکھ چکا ہوں امریکہ کے چند روزانہ اور نامی اخباروں میں بخوبی شائع ہو گیا تھا۔ اور یہ اخباریں امریکہ کے عیسائیوں کی تھیں جن کا مجھ سے کچھ تعلق نہ تھا اور
*حاشیہ ۔ میری طرف سے ۲۳؍اگست ۱۹۰۳ء کو ڈوئی کے مقابل پر انگریزی میں یہ اشتہار شائع ہوا تھاجس میں یہ فقرہ ہے کہ میں عمر میں ستر ۷۰برس کے قریب ہوں اور ڈوئی جیسا کہ وہ بیان کرتا ہے پچاس۵۰ برس کا جوان ہے لیکن میں نے اپنی بڑی عمر کی کچھ پروا نہیں کی کیونکہ اس مباہلہ کا فیصلہ عمروں کی حکومت سے نہیں ہوگا بلکہ خدا جو احکم الحاکمین ہے وہ اس کا فیصلہ کرے گا۔ اور اگر ڈوئی مقابلہ سے بھاگ گیا... تب بھی یقیناًسمجھو کہ اس کے صیحون پر جلد تر ایک آفت آنے والی ہے۔ اب میں اس مضمون کو اس دعا پرختم کرتا ہوں کہ اے قادر اور کامل خدا! جو ہمیشہ نبیوں پر ظاہر ہوتا رہا ہے اور ظاہر ہوتا رہے گا یہ فیصلہ جلد کر اور ڈوئی کا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر دے۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جو کچھ اپنی وحی سے تونے مجھے وعدہ دیا ہے وہ وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ اے قادر خدا میری دعا سن لے۔ تمام طاقتیں تجھ کو ہیں۔
دیکھو اشتہار ۲۳؍اگست ۱۹۰۳ء بزبان انگریزی۔ منہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ ۵۰۵)
(۲)نمبر
نام اخبار مع تاریخ
ٹیلیگراف
۵؍ جولائی ۱۹۰۳ء
خلاصہ مضمون
مرزا غلام احمد صاحب پنجاب سے ڈوئی کو چیلنج بھیجتے ہیں کہ اے وہ شخص جو مدعیء نبوت ہے آ۔ اور میرے ساتھ مباہلہ کر۔ ہمارا مقابلہ دعا سے ہوگا اور ہم دونوں خدا تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ہم میں سے جو شخص کذّاب ہے وہ پہلے ہلاک ہو۔
(۳)ؔ نمبر
نام اخبار مع تاریخ
ارگوناٹ سان فرانسسکو
یکم ؍ دسمبر ۱۹۰۲ء
خلاصہ مضمون
عنوان انگریزی اور عربی (یعنی عیسائیت اور اسلام) کا مقابلہ دعا۔ مرزا صاحب کے مضمون کا خلاصہ جو ڈوئی کو لکھا ہے یہ ہے کہ تم ایک جماعت کے لیڈر ہو اور میرے بھی بہت سے پیرو ہیں۔ پس اس بات کا فیصلہ کہ خدا کی طرف سے کون ہے ہم میں اس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے خدا سے دعا کرے۔ اور جس کی دعا قبول ہو۔ وہ سچے خدا کی طرف سے سمجھا جاوے۔ دعایہ ہوگی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے خدا اُسے پہلے ہلاک کرے۔ یقیناًیہ ایک معقول اور منصفانہ تجویز ہے۔