عیسیٰ کو خدا جانتا تھا اور تثلیث کو تمام دنیا میں پھیلانے کے لئے اتنا جوش رکھتا تھا کہ میں نے باوجود اس کے کہ صدہا کتابیں پادریوں کی دیکھیں مگر ایسا جوش کسی میں نہ پایا چنانچہ اس کے اخبار لیؤز آف ہیلنگ مورخہ۱۹؍دسمبر ۱۹۰۳ء اور ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ء میں یہ فقرے ہیں۔ ’’میںؔ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آوے کہ اسلام دنیا سے نابود ہو جاوے۔ اے خدا تو ایسا ہی کر۔ اے خدا اسلام کو ہلاک کر دے۔‘‘ اور پھر اپنے پرچہ اخبار ۱۲؍دسمبر ۱۹۰۳ء میں اپنے تئیں سچا رسول اور سچا نبی قرار دے کر کہتا ہے کہ ’’اگر میں سچا نبی نہیں ہوں تو پھر رُوئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو خدا کا نبی ہو۔‘‘ علاوہ اس کے وہ سخت مشرک تھا اور کہتا تھا کہ مجھ کو الہام ہو چکا ہے کہ پچیس ۲۵برس تک یسوع مسیح آسمان سے اُتر آئے گا اور حضرت عیسیٰ کو در حقیقت خدا جانتا تھا اور ساتھ اس کے میرے دل کو دُکھ دینے والی ایک یہ بات تھی جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ وہ نہایت درجہ پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا اور میں اس کا پرچہ اخبار لیوز آف ہیلنگ لیتا تھا اور اُس کی بد زبانی پر ہمیشہ مجھے اطلاع ملتی تھی۔ جب اُس کی شوخی انتہا تک پہنچی تو میں نے انگریزی میں ایک چٹھی اُس کی طرف روانہ کی اور مباہلہ کے لئے اُس سے درخواست کی تا خدا تعالیٰ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے اُس کو سچے کی زندگی میں ہلاک کرے۔ یہ درخواست دو مرتبہ یعنی ۱۹۰۲ء اور پھر ۱۹۰۳ء میں اُس کی طرف بھیجی گئی تھی اور امریکہ کے چند نامی اخباروں میں بھی شائع کی گئی تھی جن کے نام حاشیہ میں درج ہیں*۔ نمبر (۱) نام اخبار مع تاریخ شکاگو انٹرپریٹر اخبار ۲۸ ؍ جون ۱۹۰۳ء خلاصہ مضمون عنوان ’’کیا ڈوئی اِس مقابلہ میں نکلے گا۔‘‘ دونوں تصویریں پہلو بہ پہلو دے کر لکھتا ہے کہ مرزا صاحب کہتے ہیں ڈوئی مفتری ہے اور میں دعا کرنے والا ہوں کہ وہ اُسے میری زندگی میں نیست و نابود کردے اور پھر کہتے ہیں کہ جھوٹے اور سچے میں فیصلہ کا یہ طریق ہے کہ خدا سے دعا کی جاوے کہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاوے۔