شخص کے نام ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے33ْ 3 ۱؂ یعنی آنحضرت ؐکے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں جونبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اس کی صحبت سے مشرف ہوں اور اس سے تعلیم اور تربیت پاویں۔ پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہوگا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہوگا اس لئے اس کے اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کہلائیں گے اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گے۔ بہر حال یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا نام اصحاب رسول اللہ رکھا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ آیت ممدوحہ بالا میں یہ تو نہیں فرمایا واٰخرین من الاُمّۃ بلکہ یہ فرمایا واٰخرین منہم اور ہر ایک جانتا ہے کہ منہم کی ضمیر اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف راجع ہے۔لہٰذا وہی فرقہ منہم میں داخل ہو سکتا ہے جس میں ایسا رسول موجود ہو کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہے اور خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس۲۶ برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروزؔ قرار دیا ہے اِسی وجہ سے براہین احمدیہ میں لوگوں کو مخاطب کرکے فرمادیا ہے 33 اور نیز فرمایا ہے کلّ برکۃ من محمّد صلی اللّٰہ علیہ وسلم فتبارک من علّم وتعلّم اور اگر کوئی یہ کہے کہ کس طرح معلوم ہوا کہ حدیث لوکان الایمان معلّقًا بالثریّا لنالہ رجل من فارسٍ اس عاجز کے حق میں ہے اور کیوں جائز نہیں کہ اُمت محمدیہ میں سے کسی اور کے حق میں ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ براہین احمدیہ میں بار بار اس حدیث کا مصداق