کے صرف دجال کو قتل کرے گا لیکن رجل فارسی ایمان کو ثریا سے واپس لائے گا۔ جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں بھی یہ ذکر ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن آسمان پر اُٹھایا جائے گا۔ لوگ قرآن پڑھیں گے مگر وہ اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ پس وہی زمانہ رجل فارسی کا اور وہی زمانہ مسیح موعود کا ہے۔ مگر جس حالت میں رجل فارسی یہ خاص خدمت ادا کرے گا کہ ایمان کو آسمان سے واپس لائے گا تو پھر اس کے مقابل پر مسیح موعود کی کوئی دینی خدمت ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ دجال کو قتل کرنا صرف دفع شر ہے جو مدارِ نجات نہیں مگر آسمان سے ایمان کو واپس لانا اور لوگوں کومومن کامل بنانا یہ افاضۂ خیر ہے جو مدارِنجات ہے اور افاضۂ خیر سے دفعِ شر کو کچھ نسبت نہیں۔ ماسوا اس کے ظاہر ہے کہ جو شخص اس قدر افاضۂ خیر کرے گا کہ ثریا سے ایمان کو واپس لائے گا۔ اس کی نسبت کوئی عقلمند خیال نہیں کر سکتا کہ وہ دفع شر پر قادر نہیں ہوگا۔ پس یہ خیال بالکل غیر معقول ہے کہ آخری زمانہ میں افاضہ خیر تو رجل فارسی کرے گا مگر دفعِ شر مسیح موعود کرے گا۔ جس کو آسمان پر چڑھنے کی طاقت ہے کیا وہ زمین کے شر کو دور نہیں کر سکتا؟
غرض اِس زمانہ کے مسلمانوں کی یہ غلطی قابلِ افسوس ہے کہ مسیح موعود اور رجل فارسی کو دو مختلف آدمی سمجھتے ہیں اور آج سے چھبیس ۲۶برس پہلے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میںؔ اس عقدہ کو کھول دیا ہے کیونکہ ایک طرف تو مجھ کو مسیح موعود قرار دیا ہے اور میرا نام عیسیٰ رکھا ہے جیسا کہ براہین احمدیہ میں فرمایا:3 3 3 اور دوسری طرف مجھے رجل فارسی مقرر کرکے بار بار اسی نام سے پکارا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے انّ الّذین صدّوا عن سبیل اللّٰہ ردّ علیھم رجل من فارس۔ شکراللّٰہ سعیہ۔ یعنی عیسائی اور دوسرے ان کے بھائی جو لوگوں کو دین اسلام سے روکتے ہیں اس رجل فارسی یعنی اس احقر نے اُن کا رد لکھا ہے خدا اس کی اس خدمت کا شکر گذار ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کام یعنی عیسائیوں کا مقابلہ کرنا یہ اصل خدمت مسیح موعود کی ہے پس اگر رجل فارسی مسیح موعود نہیں تو کیوں مسیح موعود کا منصبی کام رجل فارسی کے سپرد کیا گیا۔ اس سے ثابت ہے کہ رجل فارسی اور مسیح موعود ایک ہی