وحی الٰہی نے مجھے ٹھہرایا ہے اور تبصریح بیان فرمایا کہ وہ میرے حق میں ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا۔ ومن ینکربہ فلیبارز للمباہلۃ ولعنۃ اللّٰہ علٰی من کذب الحق اوافتریٰ علٰی حضرۃ العزّۃ۔ اور یہ دعویٰ اُمت محمدیہ میں سے آج تک کسی اور نے ہر گز نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف مَیں اس نام کا مستحق ہوں۔ اور یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے کس قدر جہالت کس قدر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے اے نادانو! میری مُراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ مَیں نعوذباللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں صرف مُراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے سو مکالمہ و مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں مَیں اُس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔ ولکلّ ان یصطلح۔ اور میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُسی نے مجھے بھیجا ہے اور اُسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اُسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اُس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں جن میں سے بطور نمونہ کسی قدر اِس کتاب میں بھی لکھے گئے ہیں۔ اگر اس کے معجزانہ افعال اور کھلے کھلے نشان جو ہزاروں تک پہنچ گئے ہیں میرے صدق پر گواہی نہ دیتے تو میں اُس کے مکالمہ کو کسی پر ظاہر نہ کرتا اور نہ یقیناًکہہ سکتا کہ یہ اُس کا کلام ہے پر اُس نے اپنے اقوال کی تائید میں وہ افعال دکھائے جنہوں نے اُس کا چہرہ دکھانے کے لئے ایک صاف اور روشن آئینہ کا کام دیا۔