کے مقتضی ہیں اور عذاب رسول کے وجود کا مقتضی ہے اور وہی رسول مسیح موعود ہے۔ پس تعجب ہے اُس قوم سے جو کہتی ہے کہ مسیح موعود کا قرآن شریف میں ذکر نہیں۔ علاوہ اس کے قرآن شریف کی یہ آیت بھی کہ 3 ۱ یہی چاہتی ہے کہ اس اُمت کے لئے چودھویں۱۴ صدی میں مثیل عیسیٰ ظاہر ہو جیسا کہ حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ سے چودھویں صدی میں ظاہر ہوئے تھے تا دونوں مثیلوں کے اول و آخر میں مشابہت ہو اسی طرح قرآن شریف میں یہ بھی پیشگوئی ہے3 3 ۲ یعنی کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں گے یا اُس پر شدید عذاب نازل نہ کریں گے یعنی آخری زمانہ میں ایک سخت عذاب نازل ہوگااور دوسری طرف یہ فرمایا 3 ۳ پس اس سے بھی آخری زمانہ میں ایک رسول کا مبعوث ہونا ظاہر ہوتا ہے اور وہی مسیح موعود ہے۔
اور یہی پیشگوئی سورۂ فاتحہ میں بھی موجود ہے کیونکہ سورہ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کا نام الضّآلِّین رکھا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگرچہ دنیا کے صدہا فرقوں میں ضلالت موجود ہے مگر عیسائیوں کی ضلالت کمال تک پہنچ جائے گی گویا دنیا میں فرقہ ضالہ وہی ہے اور جب کسی قوم کی ضلالت کمال تک پہنچتی ہے اور وہ اپنے گناہوں سے باز نہیں آتی تو سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ ؔ ان پر عذاب نازل ہوتا ہے پس اس سے بھی مسیح موعود کا آنا ضروری ٹھہرتا ہے یعنی بموجب آیت 3۔
اور یہ عجیب بات ہے کہ جیسا کہ احادیث نبویہ میں مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی ہے کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ ایسا ہی ایک رجل فارسی کی نسبت پیشگوئی ہے کہ وہ آخری زمانہ میں ضائع شدہ ایمان کو پھر بحال کرے گا جیسا کہ لکھا ہے۔ لو کان الایمان معلّقًا بالثریّا لنالہ رجل من فارس یعنی اگر ایمان ثریا پر چلا جاتا تب بھی ایک رجل فارسی اس کو واپس لے آتا۔ اب ظاہر ہے کہ رجل فارسی کو اس حدیث میں اس قدر فضیلت دی گئی ہے اور اس قدر کارنمایاں کام اس کا دکھلایا گیا ہے کہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ رجل فارسی مسیح موعود سے افضل ہے کیونکہ مسیح موعود بقول مخالفوں