زلزلوں وغیرہ حوادث کی پیشگوئی بھی کی ہے اور صریح طور پر فرما دیاہے کہ آخری زمانہ میں جبکہ آسمان اور زمین میں طرح طرح کے خوفناک حوادث ظاہو ہونگے وہ عیسیٰ پرستی کی شامت سے ظاہر ہوں گے اور پھر دوسری طرف یہ بھی فرمایا 3۱ پس اس سے مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی کھلے کھلے طور پر قرآن شریف میں ثابت ہوتی ہے کیونکہ جو شخص غور اور ایمانداری سے قرآن شریف کو پڑھے گا اُس پر ظاہر ہوگا کہ آخری زمانہ کے سخت عذابوں کے وقت جبکہ اکثر حصے زمین کے زیر و زبر کئے جائیں گے اور سخت طاعون پڑے گی اور ہر ایک پہلو سے موت کا بازار گرم ہوگا اُس وقت ایک رسول کا آنا ضروری ہے جیسا کہ خُدا تعالیٰ نے فرمایا 3یعنی ہم کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتے جب تک عذاب سے پہلے رسول نہ بھیج دیں پھر جس حالت میں چھوٹے چھوٹے عذابوں کے وقت میں رسول آئے ہیں جیسا کہ زمانہ کے گذشتہ واقعات سے ثابت ہے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس عظیم الشان عذاب کے وقت میں جو آخری زمانہ کا عذاب ہے اور تمام عالم پر محیط ہونے والا ہے جس کی نسبت تمام نبیوں نے پیشگوئی کی تھی خدا کی طرف سے رسول ظاہر نہ ہو اس سے تو صریح تکذیب کلام اللہ کی لازم آتی ہے۔ پس وہی رسول مسیح موعود ہے کیونکہ جب کہ اصل موجب اُن عذابوں کا عیسائیت کا فتنہ ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا تو ضرور تھا کہ اس فتنہ کےؔ مناسبِ حال اور اس کے فرو کرنے کی غرض سے رسول ظاہر ہو سو اُسی رسول کو دوسرے پیرایہ میں مسیح موعود کہتے ہیں پس اس سے ثابت ہوا کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا ذکر ہے اور یہی ثابت کرنا تھاہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ اگر قرآن شریف کی رو سے عیسائیت کے فتنہ کے وقت عذاب کاآنا ضروری ہے تو مسیح موعود کا آنا بھی ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ یہ عذاب عیسائیت کے کمال فتنہ کے وقت آنا قرآن مجید سے ثابت ہے پس مسیح موعود کا آنا بھی قرآن کریم سے ثابت ہے۔ اسی طرح عام طورپر قرآن شریف سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم کسی قوم پر عذاب کرناچاہتے ہیں تو ان کے دلوں میں فسق و فجور کی خواہش پیدا کر دیتے ہیں تب وہ اتباع شہوات اور بے حیائی کے کاموں میں حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں تب اُس وقت اُن پر عذاب نازل ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ امور بھی یورپ میں کمال تک پہنچ گئے ہیں جو بالطبع عذاب