د و حصہ میں پہنچ کر فتور آئے گا اور چودھویں صدی کے سر پر اُن کا حَکَمْ ظاہر ہوگا۔
پھر ہم اپنے پہلے بیان کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ وحی کے اقسامِ ثلاثہ میں سے اکمل اور اتم وہ وحی ہے جو علم کی تیسری قسم میں داخل ہے جس کا پانے والا انوار سُبحانی میں سراپا غرق ہوتا ہے اور وہ تیسری قسم حق الیقین کے نام سے موسوم ہے۔ اور ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ پہلی قسم وحی یا خواب کی محض علم الیقین تک پہنچاتی ہے جیسا کہ ایک شخص اندھیری رات میں ایک دھواں دیکھتا ہے اور اُس سے ظنّی طور پر استدلال کرتا ہے کہ اس جگہ آگ ہوگی اور وہ استدلال ہرگز یقینی نہیں ہوتا کیونکہ ممکن ہے کہ وہ دُھواں نہ ہو بلکہ ایسی غبار ہو جو دُھوئیں سے متشابہ ہو۔ یا دُھواں تو ہو مگر وہ ایک ایسی زمین سے نکلتا ہو جس میں کوئی مادہ آتشی موجود ہو۔ پس یہ علم ایک عقلمند کو اُس کے ظنون سے رہائی نہیں بخش سکتا اور اُس کو کوئی ترقی نہیں دے سکتا بلکہ صرف ایک خیال ہے جو اپنے ہی دماغ میں پیدا ہوتا ہے۔ پس اس علم کی حد تک اُن لوگوں کی خوابیں اور الہام ہیں جو محض دماغی بناوٹ کی وجہ سے اُن کو آتی ہیں کوئی عملی حالت اُن میں موجود نہیں یہ تو علم الیقین کی مثال ہے۔ اور جس شخص کی خواب اور الہام کا سر چشمہ یہی درجہ ہے اُس کے دل پر اکثر شیطان کا تسلّط رہتا ہے اور اس کو گمراہ کرنے کے لئے وہ شیطان بعض اوقات ایسی خوابیں یا الہام پیش کر دیتا ہے جن کی وجہ سے وہ اپنے تئیں قوم کا پیشوا یا رسول کہتا ہے اور ہلاک ہو جاتاہے جیساؔ کہ جموں کا رہنے والا بدقسمت چراغدین جو پہلے میری جماعت میں داخل تھا اسی وجہ سے ہلاک ہوا اور اُس کو شیطانی الہام ہوا کہ وہ رسول ہے اور مرسلین میں سے ہے اور حضرت عیسیٰ نے اُس کو ایک عصا دیا ہے کہ تا دجّال کو اُس سے قتل کرے اور مجھے اُس نے دجّال ٹھہرایا۔ آخر اس پیشگوئی کے مطابق جو رسالہ دافع البلاء و معیار اہل الاصطفاء میں درج ہے مع اپنے دونوں لڑکوں کے طاعون سے جو اناں مرگ مرا۔ اور موت کے دنوں کے قریب اُس نے یہ مضمون بھی مباہلہ کے طور پر میرا نام لے کر شائع کیا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے خدا اس کو ہلاک کر دے۔ سو وہ خود ۴؍اپریل