۱۹۰۶ ء کو مع اپنے دونوں لڑکوں کے طاعون سے ہلاک ہو گیا۔ فاتقوااللّٰہ یا معشرالملھمین۔
دوسری حالت وہ ہے کہ جیسے انسان اندھیری رات کے وقت اور سخت سردی کے وقت ایک روشنی کو دور سے مشاہدہ کرتا ہے اور وہ روشنی اُس کو اگرچہ راہِ راست کے دیکھنے میں مدد دیتی ہے مگر سردی کو دور نہیں کر سکتی۔ اِس درجہ کا نام عین الیقین ہے اور اس درجہ کا عارف خدا تعالیٰ سے تعلق تو رکھتا ہے مگر وہ تعلق کامل نہیں ہوتا۔ اِس مذکورہ بالا درجہ پر شیطانی الہامات بکثرت ہوتے ہیں کیونکہ ابھی ایسے شخص کو جس قدر شیطان سے تعلق ہوتا ہے خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ہوتا۔
تیسری حالت وہ ہے کہ جب انسان اندھیری رات اور سخت سردی کے وقت میں نہ صرف آگ کی روشنی پاتا ہے بلکہ اُس آگ کے حلقہ کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور اُس کو محسوس ہو جاتا ہے کہ درحقیقت آگ یہ ہے اور اُس سے اپنی سردی کو دور کرتا ہے یہ وہ کامل درجہ ہے جس کے ساتھ ظنّ جمع نہیں ہو سکتا اور یہی وہ درجہ ہے جو بشریت کی سردی اور قبض کو بکلّی دور کرتا ہے۔ اِس حالت کا نام حق الیقین ہے اور یہ مرتبہ محض کامل افراد کو حاصل ہوتا ہے جو تجلّیاتِ الٰہیہ کے حلقہ کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور علمی اور عملی دونوں حالتیں اُن کی درست ہو جاتی ہیں اِس درجہ سے پہلے نہ علمی حالت کمال کو پہنچتی ہے اور نہ عملی حالت مکمل ہوتی ہے اور اس درجہ کو پانے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے کامل تعلق رکھتے ہیں اور حقیقت میں وحی کا لفظ انہیں ؔ کی وحی پر اطلاق پاتاہے کیونکہ وہ شیطانی تصرفات سے پاک ہوتی ہے اور وہ ظنّ کے درجہ پر نہیں ہوتی بلکہ یقینی اور قطعی ہوتی ہے اور وہ نور ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کو ملتا ہے۔ اور ہزارہا برکات اُن کے ساتھ ہوتی ہیں اور بصیرت صحیحہ ان کو حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ دور سے نہیں دیکھتے بلکہ نور کے حلقہ کے اندر داخل کئے جاتے ہیں۔ اور اُن کے دل کو خدا سے ایک ذاتی تعلق ہوتا ہے۔ اسی لئے جس طرح خدا تعالیٰ اپنے لئے یہ امر چاہتا ہے کہ وہ شناخت کیا جائے ایسا ہی اُن کے لئے بھی یہی چاہتا ہے کہ اُس کے بندے اُن کو شناخت کر لیں۔ پس اِسی غرض سے وہ بڑے بڑے نشان اُن کی تائید اور نصرت میں ظاہر کرتا ہے ہر ایک جو اُن کا مقابلہ کرتا ہے ہلاک ہوتا ہے۔