یہ تو خدا کے نشان ہیں جو مَیں پیش کرتا ہوں۔ مگر تم سوچو کہ اس مخالفت میں تمہارے ہاتھ میں کونسی دلیل ہے بجز اِس کے کہ ایسی حدیثیں پیش کرتے ہو جن کے مخالف قرآن شریف گواہی دیتا ہے اور جن کے مخالف حدیثیں بھی موجود ہیں اور جن کے مخالف واقعات اپنا چہرہ دکھلا رہے ہیں۔ وہ دجّال کہاں ہے؟ جس سے تم ڈراتے ہو مگر لَا الضَّآلِّیْنَوالادجَّال دن بدن دنیا میں ترقی کر رہا ہے اور قریب ہے کہ آسمان و زمین اس کے فتنہ سے پھٹ جائیں۔ پس اگر تمہارے دلوں میں خدا کا خوف ہوتا تو سُورۃ فاتحہ پر غور کرنا ہی تمہارے لئے کافی تھا۔ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ جو کچھ تم نے مسیح موعود کی پیشگوئی کے معنی سمجھے ہیں وہ صحیح نہ ہوں۔ کیا ان غلطیوں کے نمونے یہود اور نصاریٰ میں موجود نہیں ہیں پھر تم کیونکر غلطی سے بچ سکتے ہو۔ اور کیا خدا کی یہ عادت نہیں ہے کہ کبھی وہ ایسی پیشگوئیوں سے اپنے بندوں کا امتحان بھی لیا کرتا ہے جیسا کہ توریت اور ملا کی نبی کی پیشگوئی سے اور انجیل کی پیشگوئی سے یہود و نصاریٰ کو امتحان میں ڈالا گیا۔ سو تقویٰ کے دائرہ سے باہر قدم مت رکھو کیا جیساکہ یہود نے اور اُن کے نبیوں نے سمجھا تھا آخری نبی بنی اسرائیل میں سے آیا یا الیاس نبی دوبارہ زمین پر آگیا؟ ہر گز نہیں بلکہ یہود نے دونوں جگہ غلطی کھائی۔ پس تم ڈرو کیونکہ خدا تعالیٰ تمہیں سورہ فاتحہ میں ڈراتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم یہود بن جاؤ۔ یہود بھی تمہارے دعویٰ کی طرح ظاہر الفاظ کتاب اللہ سے متمسک تھے۔ مگر بوجہ اِس کے کہ حَکَمْ کی بات کو انہوں نے نہ مانا اور اُس کے نشانوں سے کچھ فائدہ نہ اُٹھایا مواخذہ میں آگئے اور اُن کا کوئی عذر سنانہ گیا۔ یہ نکتہؔ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ساتویں صدی پر مبعوث ہوئے تھے کیونکہ خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ ساتویں صدی تک بہت سی گمراہی عیسائیوں اور یہودیوں میں پیدا ہو گئی تھی۔ سو خدا تعالیٰ نے دونوں قوموں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور حَکَمْ مبعوث فرمایا۔ مگر جو مسلمانوں کیلئے حَکَمْ مقدر تھا اُس کے ظہور کی میعاد پہلی میعاد سے دو چند کی گئی یعنی چودھویں صدی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ عیسائی تو صرف ساتویں تک بگڑ گئے مگر مسلمانوں کی حالت میں اس مدّت کے