میں بڑا تناقض ہے کیونکہ صحیح بخاری تو اصل مقصد ظہور مسیح موعود کا کسر صلیب ٹھہراتی ہے لیکن صحیح مسلم اصل مقصد مسیح موعود کا جس کے لئے وہ ظاہر ہوگا قتل دجّال بیان کرتی ہے۔ شاید یہ جواب دیا جائے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت میں ایک حصہ زمین پر دجال کا غلبہ ہوگا اور زمین کے دوسرے حصہ میں صلیب پرست قوم کا غلبہ ہوگا جیسا کہ دو بادشاہتیں جُدا جُدا ہوتی ہیں مگر یہ جواب صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ مسلّم امر ہے کہ دجّال تمام زمین پر بجز مکہ اور مدینہ کے پھر جائے گا یعنی ہر ایک جگہ اُس کا تسلط ہو جائے گا جیسا کہ احادیث صحیحہ اس کی شاہد ہیں۔ پس کیا نعوذ باللہ صلیب پرستی کا غلبہ مکہ اور مدینہ میں ہوگا کیونکہ بہر حال مسیح موعود کے وقت میں کسی حصہ زمین میں صلیبی غلبہ بھی مان لینا چاہیے پس جبکہ مکہ اور مدینہ کے سوا تمام زمین پر اور سب جگہ دجال کا غلبہ ہو گیا تو صلیبی غلبہ کے لئے صرف مکہ اور مدینہ کی زمین رہ گئی۔ یہ تو وہ احادیث ہیں جو دجال کے غلبہ کو بیان کرتی ہیں۔ دوسری طرف ایسی احادیث بھی ہیں جو یہ بتلاتی ہیں کہ مسیح موعود کے وقت میں تقریباً تمام زمین پر عیسائی سلطنت قوت اور شوکت رکھتی ہوگی اور درحقیقت حدیث یکسر الصلیب میں بھی اسی طرف اشارہ ہے اور آیت 3 ۱؂ بھی یہی بآواز بلند بتلا رہی ہے پس اس صورت میں یہ توجیہ قابلِ اعتبار نہ رہی کہ اس زمانہ میں کچھ حصہ زمین میں غلبہ عیسائیوں کا ہوگا اور کچھ حصہ میںؔ غلبہ دجّال کا ہوگا۔ مگر شاید جواب میں یہ کہا جائے گا کہ اوّل عیسائیوں کا غلبہ ہوگا اور پھر دجّال آکر کسر صلیب کرے گا اور پھر مسیح آکر دجّال کو قتل کرے گا مگر یہ ایسا قول ہے کہ آج تک کسی فرقہ کا مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ عقیدہ نہیں ہے بلکہ صحیح بخاری میں تو یہی لکھا ہے کہ کسر صلیب مسیح موعود کرے گا نہ کہ دجّال*۔ اس تنازع کے فیصلہ کے لئے جب ہم حدیثوں کو دیکھتے ہیں تو وہی صحیح مسلم جو دجّال کا ذکر کرتی ہے اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ دجّال معہود گرجا میں سے نکلے گا یعنی عیسائیوں میں پیدا ہوگا۔ پس اس صورت میں صحیح مسلم پادریوں کو دجّال ٹھہراتی ہے اور اس کی تائید میں واقعات بھی شہادت دے * احادیث سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے وقت عیسائی قوم کثرت سے دنیا میں پھیل جاوے گی۔ منہ