رہے ہیں اور ظاہرکر رہے ہیں کہ وہ آخری فتنہ جو ظہور میں آیا جس سے کئی لاکھ مسلمان مُرتد ہو گیا وہ صرف عیسائیت کا فتنہ ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ پس اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اختلاف صرف لفظی ہے یعنی صحیح بخاری میں جس فتنہ کا نام فتنہء صلیب رکھا ہے اور مسیح موعود کو صلیب کا توڑنے والا قرار دیا ہے صحیح مسلم میں اسی فتنہ کا نام فتنہء دجّال رکھا ہے اور کسرِ صلیب کو بطور قتل دجّال قرار دیا ہے۔
اورجب ہم زیادہ تصریح کے لئے قرآن شریف کی طرف آتے ہیں جو ہر ایک تنازع کا حَکم ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دجال کا نام تک نہیں ہاں عیسائیت کے فتنہ کو وہ بہت بڑا بیان کرتا ہے جو اسلام کے تمام اصول کا دشمن ہے اور کہتا ہے کہ قریب ہے کہ اُس سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور اسی فرقہ کو خدا کے کلام کا محرّف مبدّل ٹھہراتا ہے اور جس فعل میں مفہوم دجل درج ہے وہ فعل اسی فرقہ کی طرف منسوب کرتا ہے اور سورہ فاتحہ میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ عیسائیت کے فتنہ سے خدا کی پناہ مانگیں جیسا کہ وَلَا الضَّالِّین کے معنی تمام مفسرین نے یہی کئے ہیں۔ پس قرآن شریف کے اِس فیصلہ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ جس فتنہ سے حدیثوں میں ڈرایا گیا ہے وہ صلیبی فتنہ ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ جب تھوڑے سے دجل کی کارروائی سے انسان دجال کہلا سکتا ہے تو جس فرقہ نے تمام شریعت اور تعلیم کو بدل دیا ہے کیا ؔ وجہ کہ وہ دجّال نہیں کہلا سکتا؟ اور جبکہ خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کے دجل کی خود گواہی دی ہے تو کیا وجہ کہ وہ دجّال کے نام سے موسوم نہ ہوں؟ ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں وہ دجالِ اکبر نہیں کہلا سکتے تھے کیونکہ ابھی بد دیانتی اور خیانت کمال کے درجہ کو نہیں پہنچی تھی صرف دجال ہونے کی بنا پڑی تھی مگر بعد اس کے ہمارے زمانہ میں جبکہ چھاپنے کی کلیں بھی نکل آئیں تب پادریوں نے تحریف اور تبدیل کو کمال تک پہنچا دیا اور کروڑہا روپیہ خرچ کرکے اُن محرف کتابوں کو شائع کیا اور لوگوں کو مُر تد کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی تب خدا کا نوشتہ پوراہوا جیسا کہ واقعات ظاہر کر رہے ہیں اور دجال اکبر کے نام کے مستحق ہو گئے اور جب تک مخالفت حق اور تحریف وتبدیل میں