اولیاء الرحمن ہیں اور خدا اُن سے محبت کرتا ہے اور وہ خدا سے۔ اور انہیں پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے اور وہ لوگ 3 ۱؂ میں داخل ہیں۔ دوسری شہادت۔ خدا تعالیٰ کے ملہم کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کلام کے ساتھ جو اس پر نازل ہوتا ہے خدا تعالیٰ کا فعل بھی ہوکیونکہ جیسا کہ جب سورج طلوع کرتا ہے تو اس کے ساتھ سورج کی تیز شعاعیں بھی ہونی ضروری ہیں ایسا ہی خدا کا کلام کبھی اکیلا نازل نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ خدا کا فعل بھی ہوتا ہے یعنی انواع واقسام کے معجزات اور انواع و اقسام کی تائیدات اور برکات ساتھ ہوتی ہیں ورنہ کمزور انسان کیونکر سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے پس جس شخص نے خدا کے کلام نازل ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کے ساتھ وہ کھلے کھلے معجزات اور تائیدات شامل نہیں اس کو خدا سے ڈرنا چاہئے اور ایسا دعویٰ ترک کرنا چاہئے اور پھر یہ دعویٰ صرف اس قدر بات سے صادق نہیں ٹھہر سکتا کہ وہ ایک دو نشان جو سچ ہو گئے ہیں پیش کرے بلکہ کم سے کم دو تین سو خدا کے کھلے کھلے نشان چاہئیں جو اس کی تصدیق کریں۔ اور پھر علاوہ اس کے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کلام قرآن شریف سے مخالف نہ ہو۔ یہ باؔ ت ہر ایک کے لئے قابل غور ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں کس فرقہ ضالّہکا غلبہ ہوگااور اس کے سوا مسیح موعود کا کیاکام ہوگا۔ صحیح بخاری جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب کہلاتی ہے اس میں کہیں ذکر نہیں کہ مسیح موعود دجال کو قتل کرنے کے لئے ظاہر ہوگا بلکہ اس میں صرف یہ کام مسیح موعود کا لکھاہے کہ وہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا۔ اس سے بصراحت معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود پادریوں کے غلبہ اور سطوت اور شوکت کے وقت ظاہر ہو گا یعنی جبکہ ان کا دجل اور تحریف اور تبدیل انتہا تک پہنچ جائے گی اور وہ محرف کتابوں کی اشاعت میں ناخنوں تک زور لگائیں گے تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کا اصل مقصد کسر صلیب ہوگا لیکن صحیح مسلم میں قتل دجّال کا ذکر ہے اور لکھا ہے کہ مسیح موعود دجّال کو قتل کرے گا اور اسی مقصد کے لئے ظاہر ہوگا مگر ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ دجال کا گر جا سے یعنی کلیسیاسے خروج ہوگا۔ بظاہر ان دونوں کتابوں یعنی بخاری اور مسلم