وہ اپنے نفس کو جانچیں اورؔ اپنی حالت کو دیکھیں جو کچھ اُن کی زبان پر جاری ہو اُس کو کلام الٰہی یقین کر لیتے ہیں حالانکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ وہ زبان جس پر خدا کا کلام جاری ہو سکتا ہے اُسی پر شیطان کا کلام بھی نازل ہو سکتا ہے اور حدیث النفس بھی ہو سکتی ہے پس کوئی کلام جو زبان پر جاری ہو ہر گز اس لائق نہیں کہ اس کو خدا کا کلام کہاجاوے جب تک دو شہادتیں اس کا منجانب اللہ ہونا ثابت نہ کریں۔ اول یہ شہادت کہ ایسا شخص جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میرے پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے اُس کی ایسی حالت چاہئے جس سے معلوم ہو کہ وہ اس لائق ہے کہ اُس پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہو سکتا ہے کیونکہ جو شخص جس سے قریب ہوتا ہے اُسی کی آواز سنتا ہے پس جو شخص شیطان سے قریب ہے وہ شیطان کی آواز سنتا ہے اور جو خدا تعالیٰ سے قریب ہے وہ اُس کی آواز کو۔ صرف اس حالت میں کسی کو ملہم من اللہ کہہ سکتے ہیں جبکہ وہ درحقیقت خدا کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے اپنی رضا مندی چھوڑ دیتا ہے اور اس کے پورے خوش کرنے کے لئے ایک تلخ موت اپنے لئے اختیار کر لیتا ہے اور اس کو سب چیز پر مقدم کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے دل کی طرف دیکھتا ہے تو اس کو تمام دنیا سے الگ اوراپنی رضا میں محو پاتا ہے اور سچ مچ ہر ایک ذرہ اس کے وجود کا خدا تعالیٰ کے راہ میں قربان ہو جاتا ہے اور اگر امتحان کیا جاوے تو کوئی چیز اس کو خدا تعالیٰ سے نہیں روک سکتی نہ دولت نہ مال نہ زن نہ فرزند نہ آبرو بلکہ وہ درحقیقت اپنی ہستی کا نقش مٹا دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی ایسی محبت اُس پر غالب آجاتی ہے کہ اگر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جاوے یا اس کی اولاد کو ذبح کیا جاوے یا اس کو آگ میں ڈالا جاوے اور ہر ایک تلخی اس پر وارد کی جائے تب بھی وہ اپنے خدا کو نہیں چھوڑتا اور مصیبت کے کسی حملہ سے وہ اپنے خدا سے الگ نہیں ہوتا اور صادق اور وفادار ہوتا ہے اور تمام دنیا اور دنیا کے بادشاہوں کو ایک مردہ کیڑے کی طرح سمجھتا ہے اور اگر اُس کو یہ بھی سُنایا جائے کہ تو جہنم میں داخل ہوگا تب بھی وہ اپنے محبوب حقیقی کا دامن نہیں چھوڑتا کیونکہ محبتِ الٰہی اس کا بہشت ہو جاتاہے اور وہ خود نہیں سمجھ سکتا کہ مجھ کو خدا سے کیوں ایسا تعلق ہے کیونکہ کوئی نامرادی اور کوئی امتحان اس تعلق کو کم نہیں کر سکتا پس اس حالت میں کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا سے نزدیک ہے نہ شیطان سے ایسے لوگ