سے یا آسمان سے اپنی شہادت میں کچھ پیش کر سکتا مگر اُس نے جو زمین و آسمان کا مالک ہے جسؔ کی اطاعت کا ذرہ ذرہ اس عالم کا جُوَا اُٹھا رہا ہے۔ میری تائید میں ایک دریا نشانوں کا بہا دیا اور وہ تائید دکھلائی جو میرے خیال اور گمان میں بھی نہیں تھی۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں اس لائق نہ تھا کہ میری یہ عزت کی جائے مگر خدائے عزّو جلّ نے محض اپنی ناپیدا کنار رحمت سے میرے لئے یہ معجزات ظاہر فرمائے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اُس کی راہ میں وہ اطاعت اور تقویٰ کا حق بجا نہیں لا سکا جو میری مُراد تھی اور اس کے دین کی وہ خدمت نہیں کر سکا جو میری تمنا تھی۔ میں اس درد کو ساتھ لے جاؤں گا کہ جو کچھ مجھے کرنا چاہئے تھا میں کر نہیں سکا لیکن اُس خدائے کریم نے میرے لئے اور میری تصدیق کے لئے وہ عجائب کام اپنی قدرت کے دکھلائے جو اپنے خاص برگزیدوں کے لئے دکھلاتا ہے۔ اور میں خوب جانتا ہوں کہ میں اس عزت اور اکرام کے لائق نہ تھا جو میرے خداوند نے میرے ساتھ معاملہ کیا۔ جب مجھے اپنے نقصان حالت کی طرف خیال آتا ہے تو مجھے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ میں کیڑا ہوں نہ آدمی۔ اور مُردہ ہوں نہ زندہ۔ مگر اس کی کیا عجیب قدرت ہے کہ میرے جیسا ہیچ اور ناچیز اس کو پسند آگیا اور پسندیدہ لوگ تو اپنے اعمال سے کسی درجہ تک پہنچتے ہیں مگر میں تو کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ کیا شانِ رحمت ہے کہ میرے جیسے کو اُس نے قبول کیا۔ میں اس رحمت کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ دنیا میں ہزاروں آدمی ہیں کہ الہام اور مکالمہ الٰہیہ کا دعویٰ کرتے ہیں مگر صرف مکالمہ الٰہیہ کا دعویٰ کچھ چیز نہیں ہے جب تک اُس قول کے ساتھ جو خدا کا سمجھا گیا ہے خدا کا فعل یعنی معجزہ نہ ہو۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے خدا کا قول خداکے فعل سے شناخت کیاگیا ہے۔ ورنہ کون معلوم کر سکتا ہے کہ وہ ایک قول جو پیش کیا گیا ہے وہ خدا کا قول ہے یا شیطان کا؟ یا وسوسہ نفسانی ہے خدا کا قول اور خدا کا فعل لازم ملزوم ہیں یعنی جس پر درحقیقت خدا کا قول نازل ہوتا ہے اس کی تائید میں خدا کا فعل بھی ظہور میں آتا ہے یعنی اس کی پیشگوئیوں کے ذریعہ سے عجائبات قدرت اس قدر ظاہر ہوتے ہیں کہ خدا کا چہرہ نظر آجاتا ہے تاثابت ہو جائے کہ اس کا الہام خدا کا قول ہے۔
افسوس اس زمانہ میں جا بجا ایسے لوگ بہت ہو گئے ہیں جن کو ملہم کہلانے کا شوق ہے اور بغیر اس کے کہ