اس ؔ تحریر کے بعد ۵؍مارچ ۱۹۰۷ء کی ڈاک میں دو خط مجھے ملے ایک خط اخویم مرزا نیاز بیگ صاحب رئیس کلانور کی طرف سے تھا جس میں لکھا تھا کہ دو اور تین مارچ کی درمیانی رات میں سخت دھکا زلزلہ کا محسوس ہوا اور اس سے پہلے بارش بھی ہوئی اور اولے بھی پڑے اور وہ الہام کہ آسمان ٹوٹ پڑا سارا پورا ہو گیا۔ اور اسی ڈاک میں ایک خط یعنی کارڈ اخویم میاں نواب خان صاحب تحصیلدار گجرات کا مجھ کو ملا جس میں لکھا تھا کہ دوسری اور تیسری مارچ ۱۹۰۷ء کی درمیانی جو رات تھی اس میں ساڑھے نو بجے رات کے ایک سخت دھکا زلزلہ کا محسوس ہوا اور نہایت خطرناک تھا۔ اور اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۷ء میں اس زلزلہ کے متعلق مندرجہ ذیل خبر ہے۔ ’’ہفتہ کی شام کو ایک تیز دھکا زلزلہ کا محسوس ہوا جو چند سیکنڈ تک رہا اس کی سمت شمال مشرق تھی۔‘‘ اور اخبار عام لاہور مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۷ء میں لکھا ہے کہ سرینگر (کشمیر) میں سنیچر کی رات کو بوقت ساڑھے نو بجے ایک تیز زلزلہ محسوس ہوا چند سیکنڈ رہا شمالًا شرقًا۔ اب کوئی ہمیں بتا وے کہ کیا کسی انسان کی طاقت میں یہ بات داخل ہے کہ اپنی طرف سے یہ پیشگوئی شائع کرے کہ آج بارش ہوگی اور اس کے بعد زلزلہ آئے گا اور ایسے وقت میں خبر دی ہو جبکہ دھوپ نکلی ہوئی تھی اور بارش کا کوئی نشان نہ تھا اور پھر اسی طرح وقوع میں آجائے اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس کا ثبوت کیا ہے تو معزز گواہان رویت کے نام ذیل میں لکھے جاتے ہیں جن کو یہ پیشگوئی اُس وقت سُنائی گئی تھی یعنی ۲۸؍فروری ۱۹۰۷ء کی صبح کے وقت جبکہ دھوپ صاف طور پر نکلی ہوئی تھی اور آسمان پر سورج چمک رہا تھا اور بادل کا نام و نشان نہ تھا۔ سخت زلزلہ والی پیشگوئی مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۷ء کے قبل از وقت سُننے کے گواہ محمد صادق ایڈیٹر اخبار ’’بدر قادیان، اہلیہ محمد صادق، والدہ خواجہ علی، محمد نصیب احمدی محرر اخبار بدر، ماسٹر شیر علی، غلام احمد محرر تشحیذ الاذہان، غلام محمد مدرس لوئر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان