3 ۱ ؂ 3 ۲؂ لَعْنَۃ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ ۳؂ یہ آیتیں ہیں جو اُس نے لکھی ہیں چنانچہ ایک آیت میں تو اُس شخص پر *** کی گئی ہے جو جھوٹ بولتا اور افترا کرتا ہے اور دوسری آیت میں اُس شخص پر *** کی گئی ہے جو سچے کی تکذیب کرتا ہے پس یہی مباہلہ ہے اور تیسری آیت میں عام طور پر جھوٹے پر *** کی ہے اور جیسا کہ میں نے لکھا ہے جب یہ شخص اس کتاب کو شائع کر چکا تو ایک سال تین ماہ کے بعد مر گیا۔ اب ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ اسلام میں مباہلہ ایک فیصلہ کن امر قرار دیا گیا ہے۔ پس جبکہ مجھے حکیم حافظ محمد دین نے اپنی اس کتاب میں مفتری ٹھہرایا اور میرا نام افّاک اثیم رکھا اور پھر اپنی کتاب کے صفحہ ۶۳ میں میری نسبت یہ آیت لکھی۔3 عَلَیْہِمْ *3۴؂ یعنی *** ہے مفتری گنہگار پر جو خدا کی آیتوں کو سنتا ہے پھر تکبر کی راہ سے انکار پر اصرار کرتا ہے گویا کچھ بھی نہیں سُنا۔ پس اُس کو تُو درد ناک عذاب کی بشارت دے پس یہ شخص محمد دین یہ آیات لکھ کر یہ اشارہ کرتا ہے کہ گویا میں افّاک اثیم ہوں اور اس کی زندگی میں ہی درد ناک عذاب میں مبتلا ہو جاؤں گا لیکن خدا تعالیٰ نے اس کی موت سے فیصلہ کر دیا کہ کون افّاک اثیم ہے۔ (۷) ساتواں نشان۔ ۲۸؍فروری ۱۹۰۷ء کی صبح کو یہ الہام ہوا۔ سخت زلزلہ آیا اور آج بارش بھی ہوگی خوش آمدی نیک آمدی۔ چنانچہ یہ پیشگوئی صبح کو ہی قبل از وقوع تمام جماعت کو سنائی گئی اور جب یہ پیشگوئی سنائی گئی بارش کا نام و نشان نہ تھا اور آسمان پر ایک ناخن کے برابر بھی بادل نہ تھا اور آفتاب اپنی تیزی دکھلا رہاتھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ آج بارش بھی ہوگی اور پھر بارش کے بعد زلزلہ کی خبر دی گئی تھی۔ پھر ظہر کی نماز کے بعد یک دفعہ بادل آیا اور بارش ہوئی اور رات کو بھی کچھ برسا اور اُس رات کو جس کی صبح میں ۳؍مارچ ۱۹۰۷ء کی تاریخ تھی زلزلہ آیا جس کی خبریں عام طور پر مجھے پہنچ گئیں پس اس پیشگوئی کے دونوں پہلو تین دن میں پورے ہو گئے۔ * یہ لفظ آیت قرآنی کا اس شخص نے بوجہ عدم علم قرآن کے غلط لکھا ہے صحیح اس طرح ہے۔ یسمع آیات اللّٰہ تُتْلٰی عَلَیہ۔ منہ