عبدالقادر طالب پور پنڈوری والے کی اصلی تحریر کا عکس یہ ہے (۶) چھٹا نشان حکیم حافظ محمد دین کی موت ہے جو بعد مباہلہ وقوع میں آئی اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک شخص ساکن موضع ننکر تھا جو متصل ریلوے سٹیشن کا ہنہ اور تحصیل لاہور کے متعلق ہے اُس نے اپنی کتاب میں میری نسبت کئی لفظ بطور مباہلہ کے استعمال کئے تھے اور جھوٹے کے لئے خدا تعالیٰ کے غضب اور *** کی درخواست کی تھی اور پھر اُس درخواست کے بعد کہ جو اُس نے کئی جگہ اپنی کتاب میں کی ہے جس کتاب کا نام اُس نے فیصلہ قرآنی اور تکذیب قادیانی رکھا ہے ایک سال اور تین ماہ بعد مر گیا*۔ چنانچہ وہ صفحہ ۷۶ اور صفحہ ۷۸ اور صفحہ ۸۵ میں یہ آیات بطور مباہلہ کے لکھتا ہے:۔ (۶) چھٹا نشان حکیم حافظ محمد دین کی موت ہے جو بعد مباہلہ وقوع میں آئی اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک شخص ساکن موضع ننکر تھا جو متصل ریلوے سٹیشن کا ہنہ اور تحصیل لاہور کے متعلق ہے اُس نے اپنی کتاب میں میری نسبت کئی لفظ بطور مباہلہ کے استعمال کئے تھے اور جھوٹے کے لئے خدا تعالیٰ کے غضب اور *** کی درخواست کی تھی اور پھر اُس درخواست کے بعد کہ جو اُس نے کئی جگہ اپنی کتاب میں کی ہے جس کتاب کا نام اُس نے فیصلہ قرآنی اور تکذیب قادیانی رکھا ہے ایک سال اور تین ماہ بعد مر گیا*۔ چنانچہ وہ صفحہ ۷۶ اور صفحہ ۷۸ اور صفحہ ۸۵ میں یہ آیات بطور مباہلہ کے لکھتا ہے:۔ * یہ کتاب اس کی اسلامی سٹیم پریس لاہور میں طبع ہوئی تھی باہتمام حکیم چنن دین۔ منہ