سے ایسا فیصلہ مانگ کر ہلاک ہو جاتا ہے تو دوسرا اس کی کچھ بھی پروا نہیں کرتا اور اُس کا قائم مقام ہو کر گستاخی اور بد زبانی شروع کر دیتا ہے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے چنانچہ اب تک بیسیوں ان میں سے ایسے مباہلات سے ہلاک ہو چکے ہیں اگر میں سب کے حالات لکھوں تو کئی جزو کتاب کے اسی ذکر میں بھر جائیں میرے بہت سے دوستوں نے خط لکھے کہ فلاں شخص یکؔ طرفہ مباہلہ کرکے چند روز میں مر گیا اور فلاں شخص نے ہماری جماعت میں سے کسی کے ساتھ مباہلہ کیا تو صبح ہوتے ہی دُنیا سے کوچ کر گیا اور بعض نے خود آکر ایسے عجیب نشان بیان کئے چنانچہ کل ۲۸؍فروری ۱۹۰۷ء کو بھی چند مہمانوں نے حالات مباہلہ کے بیان کئے مگر میں نے اس لئے کہ کتاب بہت بڑھ گئی ہے اور وہ واقعات بھی صرف زبانی ہیں ان کا لکھنا غیر ضروری سمجھا۔ معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کا کیا ارادہ ہے کہ کوئی بھی ان میں سے یہ سوچتا نہیں کہ یہ تائیدات الٰہیہ کیوں ہو رہی ہیں کیا کاذبوں، دجالوں اور فاسقوں کے یہی نشان ہیں کہ ان کے مقابل پرمباہلہ کی حالت میں خدا مومنوں متقیوں کو ہلاک کرتا جائے۔ بالآخر یاد رہے کہ اشعار مذکورہ قلمی مصنف کا عکس لے کر اس کتاب کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے تا مخالفوں پر اتمام حجت ہو اگر کسی کو انکار ہو کہ یہ اس کے شعر نہیں ہیں تو اس کی اس عکسی تحریر کو اس کی دوسری تحریروں سے ملا سکتا ہے اور اصل بھی میرے پاس محفوظ ہے جس کا جی چاہے دیکھ لے اور جس شخص کے ذریعہ سے مجھے یہ تحریر ملی ہے وہ اُس کا شاگرد ہے اور اس کا نام ہے شیخ محمد ولد علی محمد ساکن ڈیہری والہ ضلع گورداسپور۔ خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ اکثر مباہلہ کرنے والے طاعون سے ہی مرے اور اکثر سخت مخالفوں کا طاعون نے ہی فیصلہ کیا۔ براہین احمدیہ میں طاعون اور زلزلہ کا خدا نے اُس زمانہ میں ذکر کیا ہے کہ جبکہ ان عذابوں کا اِس ملک میں نام و نشان نہ تھا جیسا کہ براہین احمدیہ میں موت کی یہ پیشگوئی ہے کہ لا یصدق السّفیہ الّا سیفۃ الھلاک۔ اتٰی امراللّٰہ فلا تستعجلوہ یعنی سفلہ آدمی بجز موت کے نشان کے اور کسی نشان کی تصدیق نہیں کرتا۔ ان کو کہہ دے کہ وہ نشان بھی آنے والا ہے پس تم مجھ سے جلدی مت کرو۔ پس موت کے نشان سے یہی طاعون کا نشان مُراد تھا۔ ایسا ہی دوسری جگہ اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے الرَّحمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰن لتنذر قومًاما