جھوٹھ کا بازار تھوڑے روز ہے بعد اس کے حسرت دلسوز ہے اب بھی مرزائیو ذرا حق سے ڈرو زندگی میں جلد تر توبہ کرو دین محمد کی کرو تم پیروی ہاتھ آوے دو جہاں میں خسروی جب خدا کا قہر ہو تم پر نزول پھر نہ مرزا مہدی ہوگا نہ رسول بھوؔ ل جائیں گے یہ سب قالا و قول ہیں دلائل سب شریعت سے فضول صرف اس کی عقل کا طومار ہے عیش و عشرت کے لئے یہ کار ہے جو طریقہ اُس نے ہے جاری کیا کس پیمبر یا ولی نے یہ کہا عورتیں بیگانہ کو ہمراہ لیا باغ میں لے جا کے اُس نے یہ کہا چھوڑ دو مُنہ کھلے اپنے تم نسا ہاتھ میں لے ہاتھ کرتے چہچہا اورکرتے کام ہیں وہ ناروا پھر یہ لوگوں نے اسے مہدی کہا یا الٰہی جلد تر انصاف کر جھوٹ کا دنیا سے مطلع صاف کر یہ شعر ہیں جن میں سے بہت گندے شعر میں نے نکال دیئے ہیں کیونکہ وہ سخت گندے اور بے حیائی کے مضمون تھے مگر جیسا کہ ان شعروں کے مصنّف نے جناب الٰہی میں دعا کی تھی کہ وہ انصاف کرے اور جھوٹ کا مطلع صاف کرے ایسا ہی خدا نے جلد تر انصاف کر دیا اور ان شعروں کے لکھنے کے چند روز بعد یعنی بعد تصنیف ان شعروں کے وہ شخص یعنی عبد القادر طاعون سے ہلاک ہو گیا۔ مجھے اُس کے ایک شاگرد کے ذریعہ سے یہ دستخطی تحریر اس کی مل گئی اور نہ وہ صرف اکیلا طاعون سے ہلاک ہوا بلکہ اور بھی اس کے بعض عزیز طاعون سے مر گئے ایک داماد بھی مر گیا۔ پس اس طرح پر اس کے شعر کے مطابق جھوٹ کا مطلع صاف ہو گیا۔ افسوس کہ یہ لوگ آپ جھوٹ بولتے ہیں اور آپ گستاخ ہو کر تہمتیں لگاتے اور شریعت نبویہ کی رو سے حد قذف کے لائق ٹھہرتے ہیں پھر بھی کچھ پر واہ نہیں کرتے۔ یہ ہیں علماء فضلاء یعنی اس زمانہ کے ان لوگوں کے دلوں میں کچھ ایسی شوخی اور لاپروائی ہے کہ جب ایک شخص خدا تعالیٰ