انذر اٰباء ھم ولتستبین سبیل المجرمین۔ قُل اِنِّیْ اُمِرْتُ وانا اوّل المؤمنین۔ یعنی وہ خدا ہے جس نے تجھے قرآن سکھلایا اور صحیح معنوں پر مطلع کیا تاکہ تو آنے والے عذاب سے اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے۔ اور ؔ تاکہ مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی معلوم ہو جائے کہ کون مجرم اور کون طالب حق ہے۔
اِسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ فرمایا جو براہین احمدیہ میں درج ہے اور وہ یہ ہے : ’’دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘
اور ظاہر ہے کہ نذیر کا لفظ اُسی مُرسل کے لئے خدا تعالیٰ استعمال کرتا ہے جس کی تائید میں یہ مقدّر ہوتا ہے کہ اس کے منکروں پر کوئی عذاب نازل ہوگا کیونکہ نذیر ڈرانے والے کو کہتے ہیں اور وہی نبی ڈرانے والا کہلاتا ہے جس کے وقت میں کوئی عذاب نازل ہونا مقدر ہوتا ہے۔ پس آج سے چھبیس ۲۶برس پہلے جو براہین احمدیہ میں میرا نام نذیر رکھا گیا ہے اُس میں صاف اشارہ تھا کہ میرے وقت میں عذاب نازل ہوگا سو اس پیشگوئی کے مطابق طاعون اور زلزلوں کا عذاب نازل ہو گیا۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ کے اکثر انسان تو آپ کے نام سے بھی بے خبر ہیں پھر وہ لوگ زلزلوں اور آتش فشاں پہاڑوں سے کیوں ہلاک ہوئے اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے کثرت گناہوں اور بدکاریوں کی وجہ سے اس لائق ہو چکے تھے کہ دنیا میں اُن پر عذاب نازل کیا جاوے پس خدا تعالیٰ نے اپنی سنت کے موافق ایک نبی کے مبعوث ہونے تک وہ عذاب ملتوی رکھا۔ اور جب وہ نبی مبعوث ہو گیا اور اس قوم کو ہزار ہا اشتہاروں اور رسالوں سے دعوت کی گئی تب وہ وقت آگیا کہ ان کو اپنے جرائم کی سزا دی جاوے اور یہ بات سراسر غلط ہے کہ یورپ اور امریکہ کے لوگ میرے نام سے بھی بے خبر ہیں یہ امر کسی منصف مزاج پر پوشیدہ نہیں رہے گا کہ عرصہ قریباً بیس ۲۰برس کا گذر گیا ہے جبکہ میں نے سولہ ہزار۱۶۰۰۰ اشتہار دعوت انگریزی میں چھپوا کر اور اس میں اپنے دعوے اور دلائل کا ذکر کرکے یورپ اور امریکہ میں تقسیم کیا تھا اور بعد اس کے