جو غلطی سے بھری ہوئی نظم اورکچھ نثر ہے وہ سب ذیل میں لکھ دیتے ہیں اور وہ یہ ہے:۔
من تصنیف مرزا غلام احمد صاحب قادیانی
ابن مریم مر چکا حق کی قسم
داخلِ جنت ہوا ہے محترم*
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد* ہے
اس کا جواب بموجب قرآن شریف کے3 ۱ چھیو۶یں پارہ میں غور سے دیکھو جس کو مرزا صاحب خوب جانتے ہیں مگر بباعث طمع نفسانی اس پر عمل نہیں کرتے۔
ابن مریم زندہ ہے حق کی قسم
صورت ملکی بفلک محترم
ذکر و فخر اُن کا ہے قرآن سے ثبوت
جھوٹ کہتے ہیں غلام احمدی
لوگو ثابت کر لو تم قرآن سے
دین کیوں کھوتے ہو تم بُہتان سے
* چونکہ یہ شخص بے علم ہے اس لئے اس نے میرے شعروں کے لکھنے میں بھی غلطی کی ہے یہ مصرع جس پر میں نے نشان لگایا ہے جو میرے شعر کا مصرع ہے اُس میں بھی اس نے غلطی کی ہے کیونکہ وہ لکھتا ہے۔ داخل جنت ہوا ہے محترم۔ حالانکہ یہ مصرع اس طرح پر ہے۔ داخلِ جنت ہوا وہ محترم۔ منہ
* اکثر نادان اس مصرع کو پڑھ کر نفسانی جوش ظاہر کرتے ہیں جیسا کہ اس مباہلہ کرنے والے نے ظاہر کیا مگر اس مصرع کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اُمت محمدیہ کا مسیح اُمت موسویہ کے مسیح سے افضل ہے کیونکہ ہمارا نبی موسیٰ سے افضل ہے بات یہ ہے کہ حکمت اور مصلحت الٰہیہ نے تقاضا کیا تھا کہ جیسا کہ موسوی خلیفوں میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام خاتم الخلفاء ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفوں میں سے ایک خاتم الخلفاء آخر الزمان میں پیدا ہوگا (جو یہ عاجز ہے) تا اسرائیلی اور اسما عیلی سلسلے باہم مشابہت پیدا کریں پس جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ سے افضل ہیں تو اس سے لازم آتا ہے کہ آپ کی اُمت کا خاتم الخلفاء حضرت موسیٰ کے خاتم الخلفاء سے افضل ہو۔ حق یہی ہے جس کے کان سُننے کے ہیں سُنے۔ افسوس! ہمارے مخالف بار بار یہ تو کہتے ہیں کہ اخیر زمانہ میں ایک گروہ اہل اسلام کا یہودی صفت ہو جائیں گے اور جیسا کہ بد قسمت یہودی خدا کے نبیوں کو رد کرتے اور پیشگوئیوں کا انکار کرتے تھے وہ بھی کریں گے مگر یہ ان کے منہ سے نہیں نکلتا کہ جیسا کہ دونوں سلسلوں کو دو نبیوں کی مماثلت کی وجہ سے اول میں مشابہت ہے ایسا ہی خاتم الخلفاء کے پیدا ہونے کے بعد آخر میں بھی مشابہت پیدا ہو جائے گی۔ یہودی بھی کہتے ہیں کہ آخر زمانہ کا مسیح پہلے مسیح سے افضل ہوگا مگر یہ لوگ نہیں کہتے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور بلند پایہ کا کچھ بھی قدر نہیں کرتے یہ سوچنے کے لائق ہے کہ جس شخص کے دل میں میرے اس مصرع کی وجہ سے مباہلہ کا جوش اُٹھا تھا خدا نے میری زندگی میں ہی اس کو ہلاک کر دیا۔ پس اس مصرع کے سچے ہونے پر اس کی موت کافی گواہ ہے۔منہ