ان سب اختلافات کا تصفیہ کرنے کے لئے کوئی حَکَمْ آتا۔ سو اسی حَکَمْ کا نام مسیح موعود اور مہدی مسعود رکھا گیا یعنی باعتبار خارجی نزاعوں کے تصفیہ کے اس کا نام مسیح ٹھہرا اور باعتبار اندرونی جھگڑوں کے فیصلہ کرنے کے اس کو مہدی معہود کرکے پکارا گیا۔ اگرچہ اس بارے میں سُنّت اللہ اس قدر متواتر تھی کہ کچھ ضرور نہ تھا کہ حدیثوں کے ذریعہ سے یہ ظاہر کیا جاتا کہ ایک شخص حَکَمْ ہو کر آئے گا جس کا نام مسیح ہوگا لیکن حدیثوں میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ وہ مسیح موعود جو اِسی اُمّت میں سے ہوگا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے حَکَمْ ہو گایعنی جس قدر اختلافات داخلی اور خارجی موجود ہیں اُن کو دور کرنے کے لئے خدا اُسے بھیجے گا۔ اور وہی عقیدہ سچا ہوگا جس پر وہ قائم کیا جائے گا۔ کیونکہ خدا اُسے راستی پر قائم کرے گا اور وہ جو کچھ کہے گا بصیرت سے کہے گا اور کسی فرقہ کا حق نہیں ہوگا کہ اپنے عقیدہ کےؔ اختلاف کی وجہ سے اس سے بحث کرے کیونکہ اُس زمانہ میں مختلف عقائد کے باعث منقولی مسائل جن کی قرآن شریف میں تصریح نہیں مشتبہ ہو جائیں گے اور بباعث کثرت اختلافات تمام اندرونی طور پر جھگڑنے والے یا بیرونی طور پر اختلاف کرنے والے ایک حَکَمْ کے محتاج ہوں گے جو آسمانی شہادت سے اپنی سچائی ظاہر کرے گا جیسا کہ حضرت عیسیٰ کے وقت میں ہوا اور پھر بعد اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہوا سو آخری موعود کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوگا۔
اِس جگہ اس سُنّت اللہ کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کوئی پیشگوئی کسی عظیم الشان مرسل کے آنے کے لئے ہوتی ہے اس میں ضرور بعض لوگوں کے لئے ایک ابتلا بھی مخفی ہوتا ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ کے لئے یہود کی