کتابوں میں پیشینگوئی کی گئی تھی کہ وہ اُس وقت آئے گا جبکہ اِلیاس نبی دوبارہ آسمان سے نازل ہوگا۔ یہ پیشگوئی ملاکی نبی کی کتاب میں اب تک موجود ہے۔ پس یہ پیشگوئی یہودیوں کے لئے بڑی ٹھوکر کا باعث ہوئی اور وہ اب تک منتظر ہیں کہ اِلیاس نبی آسمان سے نازل ہوگا اور ضرور ہے کہ وہ پہلے نازل ہو اور پھر اُن کا سچا مسیح آئے گا مگر اب تک نہ اِلیاس دوبارہ زمین پر نازل ہوا اور نہ ایسا مسیح آیا جو اس شرط کو پوری کرتا۔
اِسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت توریت میں یہ پیشگوئی تھی کہ وہ یہودیوں کے
خاندان یعنی ابراہیم کی اولاد میں سے پیدا ہوں گے اور انہیں میں سے اور انہیں کے بھائیوں میں سے اُن کا ظہور ہوگا اور تمام نبیوں نے جو بنی اسرائیل میں آتے رہے اِس پیشگوئی کے یہی معنے سمجھے تھے کہ وہ آخرالزمان کانبی بنی اسرائیل میں سے پیدا ہوگا مگر آخر وہ نبی بنی اسمٰعیل میں سے پیدا ہو گیا اور یہ امر یہودیوں کیلئے سخت ٹھوکر کا باعث ہوا اگر توریت میں صریح طور پر یہ الفاظ ہوتے کہ وہ نبی بنی اسمٰعیل میں سے آئے گا اور اُس کا مولد مکّہ ہوگا اور اُس کا نام مُحَمَّد ہوگا صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے باپ کا نام عبد اللہ ہوگا تو یہ فتنہ یہودیوں میں ہرگز نہ ہوتا۔
پس جب کہ اِس امر کے لئے دو۲ مثالیں موجود ہیں کہ ایسی پیشگوئیوں میں خدا تعالیٰ کو اپنے بندوں کا کچھ ابتلا بھی منظور ہوتا ہے تو پھر تعجب کہ کس طرح ہمارے مخالف باوجود بہت سے اختلافاؔ ت کے جو مسیح موعود کے بارے میں ہر ایک فرقہ کی حدیثوں میں پائے جاتے ہیں اور بالاتفاق اس کو اُمتی بھی قرار دیا گیا ہے اِس بات پر مطمئن ہیں کہ ضرور مسیح آسمان سے ہی نازل ہوگا حالانکہ آسمان سے نازل ہونا خود غیر معقول اور خلاف نص قرآن ہے*۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ33 ۔۱ پس اگر بشر کے جسم عنصری کا آسمان پر چڑھانا عادت اللہ میں داخل تھا تو اِس جگہ کفار قریش کو کیوں انکار کے ساتھ جواب دیا گیا کیا عیسیٰ بشر نہیں تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں۔ اور کیا خدا تعالیٰ کو حضرت عیسیٰ کو آسمان پر چڑھانے کے وقت وہ وعدہ یاد نہ رہا کہ 33۲ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آسمان پر چڑھنے کا جب سوال کیا گیا تو وہ وعدہ یاد آگیا۔ اور جس کو علم کتاب اللہ ہے وہ خوب جانتا ہے کہ قرآن شریف نے اپنے قول سے حضرت عیسٰی کی وفات کی گواہی دیدی ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل سے یعنی اپنی رؤیت کے ساتھ اِسی شہادت کو ادا کر دیا
* کسی حدیث صحیح مرفوع متصل سے ثابت نہیں کہ عیسیٰ آسمان سے نازل ہوگارہا نزول کا لفظ سو وہ اکرام اور اعزاز کے لئے آتا ہے جیسا کہ کہتے ہیں کہ فلاں لشکر فلاں جگہ اُترا ہے اِسی لئے نزیل مسافر کو کہتے ہیں پس صرف نزول کے لفظ سے آسمان سمجھ لینا پر لے درجہ کی ناسمجھی ہے۔منہ