اب آخری زمانہ میں اس نے قید سے پوری رہائی پائی ہے اور اُس کی مُشکیں کھولی گئی ہیں تا جو جو حملے کرنا اُس کی تقدیر میں ہے کر گذرے۔ اور بعض کا خیال ہے کہ دجّال نوع انسان میں سے نہیں بلکہ شیطان کا نام ہے۔* اور بعض حضرت عیسیٰ کی نسبت خیال رکھتے ہیں کہ وہ زندہ آسمان پر موجود ہے اور بعض فرقے مسلمانوں کے جنہیں معتزلہ کہتے ہیں حضرت عیسیٰ کی موت کے قائل ہیں اور بعض صُوفیوں کا قدیمؔ سے یہ مذہب ہے کہ مسیح آنے والے سے مراد کوئی اُمّتی انسان ہے کہ جو اِسی اُمّت میں سے پیدا ہوگا۔ اب ذرا غور کرکے دیکھ لو کہ مسیح اور مہدی اور دجّال کے بارے میں کس قدر اس اُمّت میں اختلاف موجود ہے اور بموجب آیت 3۱؂ ہر ایک اپنے عقیدہ کی نسبت اجماع کا دعویٰ کر رہا ہے پس اصل بات یہ ہے کہ جب کسی شریعت میں بہت سے اختلاف پیدا ہو جائیں تو وہی اختلافات طبعًا چاہتے ہیں کہ اُن کے تصفیہ کے لئے کوئی شخص خدا کی طرف سے آوے کیونکہ یہی قدیم سے سُنّت اللہ ہے۔ جب یہودیوں میں بہت سے اختلافات پیدا ہوئے تو اُن کے لئے حضرت عیسیٰ حَکَمْ بن کر آئے۔ اور جب عیسائیوں اور یہودیوں کے باہمی تنازعات بڑھ گئے تو اُن کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے حَکَمْ مقرر ہو کر مبعوث ہوئے۔ اب اِس زمانہ میں دنیا اختلافات سے بھر گئی۔ ایک طرف یہودی کچھ کہتے ہیں اور عیسائی کچھ ظاہر کرتے ہیں اور اُمّتِ محمدیہ میں الگ باہمی اختلافات ہیں۔ اور دوسرے مشرکین سب کے برخلاف رائیں ظاہر کرتے ہیں اور اس قدر نئے مذاہب اور نئے عقائد پیدا ہو گئے ہیں کہ گویا ہر ایک انسان ایک خاص مذہب رکھتا ہے۔ اِس لئے بموجب سُنّت اللہ کے ضروری تھا کہ * اِس شیطان کا نام دوسرے لفظوں میں عیسائیت کا بھوت ہے یہ بھوت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں عیسائی گرجا میں قید تھا اور صرف جسّاسہ کے ذریعہ سے اسلامی اخبار معلوم کرتا تھا۔ پھر قرون ثلاثہ کے بعد بموجب خبر انبیاء علیہم السلام کے اِس بھوت نے رہائی پائی اور ہرروز اس کی طاقت بڑھتی گئی یہاں تک کہ تیرھویں صدی ہجری میں بڑے زور سے اُس نے خروج کیا اِسی بھُوت کا نام دجّال ہے جس نے سمجھنا ہو سمجھ لے اور اسی بھوت سے خدا تعالیٰ نے سُورۃ فاتحہ کے اخیر میں 3 کی دُعا میں ڈرایا ہے۔ منہ