حضرت عیسیٰ آسمان پر مع جسم عنصری زندہ موجود ہیں اِس سے زیادہ کوئی جھوٹ نہیں ہوگا۔ اور ایسے شخص پر امام احمد حنبل صاحب کا یہ قول صادق آتا ہے کہ جو شخص بعد صحابہ کے کسی مسئلہ میں اجماع کا دعویٰ کرے وہ کذّاب ہے۔ بلکہؔ اصل بات یہ ہے کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد اُمّت مرحومہ تہتّر فرقوں پرمنقسم ہو گئی اور صدہا مختلف قسم کے عقائد ایک دوسرے کے مخالف اُن میں پھیل گئے یہاں تک کہ یہ عقائد کہ مہدی ظاہر ہوگا اور مسیح آئے گا اِن میں بھی ایک بات پر متفق نہ رہے۔ چنانچہ شیعوں کا مہدی تو ایک غار میں پوشیدہ ہے جس کے پاس اصل قرآن شریف ہے وہ اُس وقت ظاہر ہوگا جبکہ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی نئے سرے زندہ کئے جاویں گے اور وہ اُن سے غصب خلافت کا انتقام لے گا۔ اور سُنّیوں کا مہدی بھی بقول اُن کے قطعی طور پر کسی خاندان میں سے پیدا ہونے والا نہیں اور نہ قطعی طور پر عیسیٰ کے زمانہ میں ظاہر ہونے والا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ بنی فاطمہ میں سے پیدا ہوگا۔ اور بعض کا قول ہے کہ بنی عباس میں سے ہوگا۔ اور بعض کا بموجب ایک حدیث کے یہ خیال ہے کہ اُمّت میں سے ایک آدمی ہے۔ پھر بعض کہتے ہیں کہ مہدی کا آنا وسط زمانہ میں ضرور ہے اور مسیح موعود بعد اس کے آئے گا۔ اور اس پر احادیث پیش کرتے ہیں۔ اور بعض کا یہ قول ہے کہ مسیح اور مہدی دو جُدا جُدا آدمی نہیں بلکہ وہی مسیح مہدی ہے۔ اور اِس قول پر لامہدی الّا عیسٰی کی حدیث پیش کرتے ہیں۔ پھر دجّال کی نسبت بعض کا خیال ہے کہ ابن صیّاد ہی دجّال*ہے اور وہ مخفی ہے اخیر زمانہ میں ظاہر ہوگا حالانکہ وہ بے چارہ مسلمان ہو چکا اور اس کی موت اسلام پر ہوئی اور مسلمانوں نے اُس کا جنازہ پڑھا۔ اور بعض کا قول ہے کہ دجّال کلیسیا میں قید ہے یعنی کسی گرجا میں محبوس ہے اور آخر اسی میں سے نکلے گا۔ یہ آخری قول تو صحیح تھا مگر افسوس کہ اس کے معنی باوجود واضح ہونے کے بگاڑ دئے گئے۔ اِس میں کیا شک ہے کہ دجّال جس سے مراد عیسائیت کا بھوت ہے ایک مُدّت تک گرجا میں قید رہا ہے اور اپنے دجّالی تصرّفات سے رُکا رہا ہے مگر * ابن صیّاد کا حج کرنا بھی ثابت ہے اور مسلمان بھی تھا مگر باوجود حج کرنے اور مسلمان ہونے کے دجّال کے نام سے بچ نہ سکا۔منہ