دور ہو چکی تھی بناوٹ کی بات کہاں تک چل سکتی ہے۔ یسوع کی دعا میں صاف یہ لفظ ہیں کہ یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔ سو خدا نے وہ پیا لہ ٹال دیا اور ایسے اسباب پیدا کر دئیے کہ جو جان بچ جانے کے لئے کافی تھے جیسے یہ امر کہ یسوع مسیح معمول کے مطابق چھ سات دن صلیب پر نہیںؔ رکھا گیا بلکہ اُسی وقت اُتارا گیا اور جیسے کہ یہ امر کہ اُس کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں جس طرح کہ اور لوگوں کی ہمیشہ توڑی جاتی تھیں۔ اور یہ خلاف قیاس امر ہے کہ اس قدر خفیف سی تکلیف سے جان نکل جائے۔
ہمارے مخالفوں کا یہ اعتقاد کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے محفوظ رہ کر آسمان پر مع جسم عنصری چڑھ گئے۔ یہ ایسا اعتقاد ہے جس سے قرآن شریف سخت اعتراض کا نشانہ ٹھہرتا ہے کیونکہ قرآن شریف ہر ایک جگہ عیسائیوں کے ایسے دعاوی کو جن سے حضرت عیسیٰ کی خدائی ثابت کی جاتی ہے ردّ کرتا ہے جیسا کہ قرآن شریف نے حضرت عیسیٰ کا بغیر باپ پیدا ہونا (جس سے اُن کی خدائی پر دلیل پیش کی جاتی تھی) یہ کہہ کر ردّ کیا کہ3 3۔۱ پھر اگر حضرت عیسیٰ درحقیقت مع جسمِ عنصری آسمان پر چڑھ گئے تھے اور پھرنازل ہونے والے ہیں تو یہ تو اُن کی ایسی خصوصیت تھی کہ بے باپ پیدا ہونے سے زیادہ دھوکہ میں ڈالتی تھی۔ پس جواب دو کہ کہاں قرآن شریف نے اس کی کوئی نظیر پیش کرکے اِس کو ردّ کیا ہے کیا خدا تعالیٰ اِس خصوصیت کے توڑنے سے عاجز رہا۔پھر ہم بیان سابق کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا جس بات پر اجماعی طور سے عقیدہ تھا وہ یہی بات تھی کہ تمام انبیاء علیہم السلام فوت ہو چکے ہیں اور کوئی زندہ نہیں اسی عقیدہ پر تمام صحابہؓ فوت ہوئے اور یہ عقیدہ قرآن شریف کی نصصریح کے مطابق تھا۔
پھر بعد صحابہ کے یہ دعویٰ کرنا کہ کسی وقت اِس اُمت کا اِس بات پر اجماع ہوا تھا کہ*
* یاد رہے کہ یہ بات بھی کسی آیت قطعیۃ الدلالت یا حدیث صحیح مرفوع متصل سے ثابت نہیں کہ حضرت عیسیٰ درحقیقت مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھائے گئے تھے۔ پس جس کا اُٹھایا جانا ثابت نہیں اس کی دوبارہ آمد کی توقع رکھنا محض طمع خام ہے۔ اوّل حضرت عیسیٰ کا آسمان پر جانا کسی آیت قطعیۃ الدلالت یا حدیث صحیح مرفوع متّصل سے ثابت کرو ورنہ بے اصل مخالفت تقویٰ سے بعید ہے۔منہ