فتنہ سے ایک چھوٹا پہاڑ بھی پھٹ سکتا ہے۔ تعجب ہے کہ قرآن شریف تو عیسائیت کے فتنہ کو سب سے بڑا ٹھہراوے اور ہمارے مخالف کسی اور دجّال کے لئے شور مچاویں۔ اور حضرات عیسائیوں کی غلطی کو بھی دیکھو کہ ایک طرف تو حضرت عیسیٰ کو خدا بنا دیا اور دوسری طرف اُس کے ملعون ہونے کا بھی اعتقاد ہے حالانکہ تمام اہلِ لُغت کے اتفاق سے ***ؔ ایک روحانی امر ہے اور ملعون راندہ درگاہِ الٰہی کو کہتے ہیں یعنی جس کا خدا کی طرف رفع نہ ہو اور جس کے دل کا کوئی تعلق محبت اور اطاعت کا خدا سے باقی نہ رہے اور خدا اُس سے بیزار ہو جائے اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے اِسی لئے شیطان کا نام لعین ہے۔ پس کیا کوئی عقلمند تجویز کر سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے دل کا تعلق خدا تعالیٰ سے بالکل ٹوٹ گیا تھا اور خدا تعالیٰ اُن سے بیزار ہو گیا تھا۔ اور عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو حضرات عیسائیاں انجیلوں کے حوالہ سے یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کے اِس واقعہ کو یونس ؑ کے واقعہ اور اسحاق ؑ کے واقعہ سے مشابہت تھی اور پھر آپ ہی اس مشابہت کے برخلاف عقیدہ رکھتے ہیں کیا وہ ہمیں بتلا سکتے ہیں کہ یونس ؑ نبی مچھلی کے پیٹ میں مُردہ ہونے کی حالت میں داخل ہوا تھا۔ اور مُردہ ہونے کی حالت میں اس کے اندر دو یا تین دن تک رہا۔ پس یونس ؑ سے یسوع کی مشابہت کیا ہوئی زندہ کو مُردہ سے کیا مشابہت؟ اور کیا حضرات عیسائیاں ہمیں بتلا سکتے ہیں کہ اسحٰق حقیقت میں ذبح ہو کر پھر زندہ کیا گیا تھا اور اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر یسوع کے واقعہ کو اسحٰق کے واقعہ سے کیا مشابہت۔ پھر یسوع مسیح انجیل میں کہتا ہے کہ اگر تم میں رائی کے دانہ جتنا بھی ایمان ہو تو تم اگر پہاڑ کو یہ کہو کہ یہاں سے وہاں چلا جا تو ایسا ہی ہوگا مگر یسوع کی تمام دعا جو اپنی جان بچانے کے لئے کی گئی تھی بیکار گئی۔ اب دیکھو کہ انجیل کی رُو سے یسوع کے ایمان کا کیا حال ہے یہ ہرگز درست نہیں ہے کہ یسوع کی یہ دعا تھی کہ مَیں صلیب پر مر تو جاؤں مگر گھبراہٹ نہ ہو۔ کیا باغ والی دعا صرف گھبراہٹ دور کرنے کے لئے تھی؟ اگر یہی بات تھی تو صلیب پر لٹکائے جانے کے وقت کیوں کہا تھا کہ ایلی ایلی لما سبقتنی۔ کیا یہ فقرہ دلالت کرتا ہے کہ اس وقت گھبراہٹ