کیونکہ قرآن شریف اُس شخص کو جس کا نام حدیثوں میں دجّال ہے شیطان قرار دیتا ہے جیسا کہ وہ شیطان کی طرف سے حکایت کرکے فرماتا ہے۔ 333۱۔ یعنی شیطان نے جناب الٰہی میں عرض کی کہ میں اُس وقت تک ہلاک نہ کیا جاؤں جب تک کہ وہ مُردے جن کے دل مر گئے ہیں دوبارہ زندہ ہوں۔ خدا نے کہا ؔ کہ میں نے تجھے اُس وقت تک مہلت دی۔ سو وہ دجّال جس کا حدیثوں میں ذکر ہے وہ شیطان ہی ہے جو آخر زمانہ میں قتل کیا جائے گا۔ جیسا کہ دانیال نے بھی یہی لکھا ہے اور بعض حدیثیں بھی یہی کہتی ہیں۔ اور چونکہ مظہر اتم شیطان کا نصر انیت ہے اِس لئے سورۃ فاتحہ میں دجّال کا تو کہیں ذکر نہیں مگر نصاریٰ کے شر سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے۔ اگر دجّال کوئی الگ مفسد ہوتا تو قرآن شریف میں بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا 3۲ یہ فرمانا چاہئے تھا کہ وَلَا الدَّجَّال۔ اور آیت اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُونَ سے مُراد جسمانی بعث نہیں کیونکہ شیطان صرف اُس وقت تک زندہ ہے جب تک کہ بنی آدم زندہ ہیں۔ ہاں شیطان اپنے طور سے کوئی کام نہیں کرتا بلکہ بذریعہ اپنے مظاہر کے کرتا ہے سو وہ مظاہر یہی انسان کو خدا بنانے والے ہیں اور چونکہ وہ گروہ ہے اِس لئے اُس کا نام دجّال رکھا گیا ہے۔ کیونکہ عربی زبان میں دجّال گروہ کو بھی کہتے ہیں۔ اور اگر دجّال کو نصرانیت کے گمراہ واعظوں سے الگ سمجھا جائے تو ایک محذور لازم آتا ہے وہ یہ کہ جن حدیثوں سے یہ پتہ لگتا ہے کہ آخری دنوں میں دجّال تمام زمین پر محیط ہو جائے گا انہیں حدیثوں سے یہ پتہ بھی لگتا ہے کہ آخری دنوں میں کلیسیا کی طاقت تمام مذاہب پر غالب آجائے گی۔ پس یہ تناقض بجز اس کے کیونکر دور ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔
علاوہ اس کے خدا تعالیٰ جو عالم الغیب ہے نصرانیت کے فتنہ کی نسبت قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں مگر دجّال جو بقول ہمارے مخالفوں کے بڑے زور و شور سے خدائی کا دعویٰ کرے گا اور دنیا کے تمام فتنوں سے اُس کا فتنہ بڑا ہوگا۔ اس کی نسبت قرآن شریف میں اتنا بھی ذِکر نہیں کہ اس کے