ہے بلکہ وہ صلیبی موت سے بچایا گیا اور مومنوں کی طرح اُس کا خدا کی طرف رفع ہؤا اور جیسا کہ ہر ایک مومن ایک جلالی جسم خدا سے پاکر خدائے عزّوجلّ کی طرف اُٹھایا جاتا ہے وہ بھی اُٹھائے گئے اور اُن نبیوں میں جا ملے جو اُن سے پہلے گذر چکے تھے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بیان سے سمجھا جاتا ہے کہ جو آپ نے معراج سے واپس آکر بیان فرمایا کہ جیسے اور نبیوں کے مقدّس اجسام دیکھے ویسا ہی حضرت عیسیٰ کو بھی اُنہیں کے رنگ میں پایا اور اُن کے ساتھ پایا کوئی نرالا جسمؔ نہیں دیکھا۔
پس یہ مسئلہ کیسا صاف اور صریح تھا کہ یہودیوں کا انکار محض رفع روحانی سے تھا کیونکہ وہی رفع ہے جو *** کے مفہوم کے برخلاف ہے مگر مسلمانوں نے محض اپنی ناواقفیت کی وجہ سے رفع روحانی کو رفع جسمانی بنادیا۔ یہودیوں کا ہر گز یہ اعتقاد نہیں کہ جو شخص مع جسم عنصری آسمان پر نہ جاوے وہ مومن نہیں بلکہ وہ تو آج تک اِسی بات پر زور دیتے ہیں کہ جس کا رفع روحانی نہ ہو اور اُس کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں وہ مومن نہیں ہوتا جیسا کہ قرآن شریف بھی فرماتا ہے 3 ۱ یعنی کافروں کیلئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ مگر مومنوں کیلئے فرماتا ہے ۔ 3 ۲۔ یعنی مومنوں کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے۔ پس یہودیوں کا یہی جھگڑا تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کافر ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف اُن کا رفع نہیں ہوا۔ یہودی اب تک زندہ ہیں مرتو نہیں گئے۔ اُن کو پوچھ کر دیکھ لو کہ جو صلیب پر لٹکایا گیا کیا اس کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جاتا اور اُس کے جسم کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا۔ جہالت بھی ایک عجیب بلا ہے۔ مسلمانوں نے اپنی نافہمی سے کہاں کی بات کہاں تک پہنچا دی اور ایک فوت شدہ انسان کے دوبارہ آنے کے منتظر ہو گئے حالانکہ حدیثوں میں حضرت عیسیٰ کی عمر ایک۱۲۰ سو بیس بر س مقرر ہو چکی ہے۔ کیا وہ ایک۱۲۰ سو بیس برس اب تک نہیں گذرے۔
ایسا ہی انہوں نے اپنی نافہمی سے قرآن شریف اور احادیث میں تناقض پیدا کر دیا