اپنی شکل پر بنادیا ہے یہ کس قدر مجنونانہ تو ہمات ہیں۔ کیوں لٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ کے معنی یہ نہیں کرتے کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔ مگر غشی کی حالت اُن پر طاری ہو گئی تھی بعد میںؔ دو تین روز تک ہوش میں آگئے اور مرہم عیسیٰ کے استعمال سے (جو آج تک صدہا طبّی کتابوں میں موجود ہے جو حضرت عیسیٰ کیلئے بنائی گئی تھی) اُن کے زخم بھی اچھے ہو گئے۔
پھر ایک اور بدقسمتی ہے کہ وہ ان آیتوں کے شان نزول کو نہیں دیکھتے۔ قرآن شریف یہود و نصاریٰ کے اختلافات دور کرنے کے لئے بطور حَکم کے تھا تا اُن کے اختلافات کا فیصلہ کرے اور اُس کا فرض تھا کہ اُن کے متنازعہ فیہ امور کا فیصلہ کرتا پس منجملہ متنازعہ فیہ امور کے ایک یہ امر بھی متنازعہ فیہ تھا کہ یہود کہتے تھے کہ ہماری توریت میں لکھا ہے کہ جو کاٹھ پر لٹکایا جاوے وہ *** ہوتا ہے اُس کی روح مَرنے کے بعد خدا کی طرف نہیں جاتی۔ پس چونکہ حضرت عیسیٰ صلیب پر مر گئے اس لئے وہ خدا کی طرف نہیں گئے اور آسمان کے دروازے اُن کے لئے نہیں کھولے گئے۔ اور عیسائیوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں عیسائی تھے اپنا یہ عقیدہ مشہور کیا تھا چنانچہ آج تک وہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ صلیب پر جان دے کر *** تو بن گئے مگر یہ *** اوروں کو نجات دینے کے لئے انہوں نے خود اپنے سر پر لے لی تھی اور آخر وہ نہ جسم عنصری کے ساتھ بلکہ ایک نئے اور ایک جلالی جسم کے ساتھ جو خُون اور گوشت اور ہڈی اور زوال پذیر ہونے والے مادہ سے پاک تھا خدا کی طرف اُٹھائے گئے۔* اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اِن دونوں متخاصمین کی نسبت یہ فیصلہ دیا کہ یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے کہ عیسیٰ کی صلیب پر جان نکلی یا وہ قتل ہوا تا اس سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ وہ بموجب حکم توریت ***
* اگر آیۃ 3کے یہ معنی ہیں کہ حضرت عیسیٰ مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھائے گئے تو ہمیں کوئی دکھلائے کہ قرآن شریف میں وہ آیۃ کہاں ہے جو امر متنازعہ فیہ کا فیصلہ کرتی ہے یعنی جس میںیہ لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا بعد موت مومنوں کی طرح خدا کی طرف رفع ہوگا اور وہ مَرنے کے بعد یحیٰی وغیرہ انبیاء کے ساتھ جا ملیں گے کیا نعوذ باللہ خدا کو یہ دھوکہ لگا کہ یہود کی طرف سے انکار تو تھا اُن کے رفع روحانی کا جو مومن کا بعد موت ہوتا ہے اور خدا نے کچھ اور کا اور سمجھ لیا۔ نعوذ باللّٰہ من ھٰذا الافتراء علی اللّٰہ سبحان اللّٰہ تبارک و تعالٰی۔منہ