لڑکے کی مجھے بشارت دی چنانچہ میرے سبز اشتہار کے ساتویں صفحہ میں اُس دوسرے لڑکے کے پیدا ہونے کے بارے میں یہ بشارت ہے۔ دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے وہ اگر چہ اب تک جو یکم ستمبر ۱۸۸۸ء ہے پیدا نہیں ہوا مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہوگا زمین آسمان ٹل سکتے ہیں پر اُس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔ یہ ہے عبارت اشتہار سبز کے صفحہ سا۷ت کی جس کے مطابق جنوری ۱۸۸۹ء میں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام محمود رکھا گیا اور اب تک بفضلہ تعالیٰ زندہ موجود ہے اور ستر۷اھویں سال میں ہے۔
۱۶۱ؔ ۔ نشان۔ جب لیکھرام قتل کیا گیا تو آریوں کو میری نسبت شک واقع ہو گیا کہ اُن کے کسی مُرید نے قتل کیا ہے چنانچہ میری خانہ تلاشی بھی ہوئی اور بعض مولویوں نے اپنی عداوت کی وجہ سے اپنے رسالوں میں یہ شائع کیا کہ پیشگوئی کرنے والے سے لیکھرام کے قتل کی نسبت پوچھنا چاہئے اُس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ الہام ہوا۔ سلامت بر تواے مردِ سلامت اور وہ اشتہار جس میں یہ الہام تھا شائع کر دیا گیا۔ تب باوجود مخالفوں کی سخت کوشش کے خدا تعالیٰ نے دشمنوں کی تہمتوں سے مجھے بچا لیا اور اُن کے مکر اور فریب اور منصوبوں سے محفوظ رکھا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ میری جماعت کے بہت سے آدمی اس کے گواہ میں۔
۱۶۲۔ نشان۔ جب میرے پر ڈاکٹر مارٹن کلارک کی طرف سے خون کا مقدمہ دائر ہوا اُس مقدمہ کے بارے میں ایک تو یہ نشان تھا کہ خدا نے اُس مخفی بلا سے پہلے مجھے اطلاع دی کہ ایسا مقدمہ ہونے والا ہے اور پھر یہ بھی اطلاع دے دی کہ آخر بریّت ہے اور جب اس پیشگوئی کے مطابق وہ بلا ظاہر ہو گئی اور ڈاکٹر مارٹن کلارک نے میرے پر خون کا مقدمہ دائر کر دیا اور گواہوں نے ثبوت دے دیا اور مقدمہ کی صورت خطرناک ہو گئی تو مجھے الہام ہوا مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنا فس کی ذلّت اور اہانت۔ پس خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا اتفاق ہوا کہ مخالفوں میں