ہے آخر وہ اُس کو پکڑتا ہے یا اُس کے مقابل پر کسی اور رنگ میں میرے لئے نشان ظاہر کر دیتا ہے اور دونوں باتوں میں سے ضرور ایک بات کر دیتا ہے یا دونوں پہلوؤں سے اپنا نشانِ قدرت دکھلاتا ہے سو چونکہ عبد الرحمن محی الدین نے میرے ذلیل کرنے کے لئے تمام مسلمانانِ پنجاب کی طرف ایک عام سرکلر جاری کیا اور کہا یہ مفتری ہے کذاب ہے منافق ہے کافر ہے فرعون ہے۔ اور نہ صرف اسی قدر بلکہ ساتھ ہی یہ الہام بھی جڑ دیا کہ خدا اس کو تباہ کرے گا ہلاک کرے گا اس کی اولاد بھی مر جائے گی اور کوئی ان میں سے نہیں رہے گا۔ اِس لئے وہ اپنے غلوسے اِس لائق ہو گیاکہ خدا کا الہام انّی مھین من اراد اھانتک اس کی ذلّت ظاہر کرے۔ سو اِؔ س سے زیادہ کیا ذلت ہوگی کہ وہ میری زندگی میں ہی ہلاک ہوگیا۔ اگر میں اس کے الہام (کے) مطابق فرعون تھا تو چاہئے تھا کہ میں اس کے سامنے ہلاک ہوتا نہ کہ وہ اور نیز اس کے الہام میں یہ تھا کہ میں بے اولاد رہوں گا خدا نے اُس کی موت کے بعد تین لڑکے مجھے اور دئے پس اِس میں بھی اُس کی ذلت ہے کہ اُس کے الہام کے برخلاف ظہور میں آیا۔
اور یہ جو میں نے لکھا ہے کہ جب کوئی میرے ذلیل کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کبھی کسی اور رنگ میں بھی خدا تعالیٰ میرا نشان ظاہر کرتا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ جب آتھم شرطی میعاد کے بعد مرا تو نادان لوگوں نے شور مچایا کہ وہ میعاد کے اندر نہیں مرا حالانکہ اُس نے شرط الہام پوری کر دی تھی کیونکہ اُس نے سا۶۰ٹھ یا ستر۷۰ لوگوں کے رو برو دجّال کہنے سے رجوع کر لیا تھا اور شرط کو پورا کر دیا تھا مگر پھر بھی جن کی طینت پاک نہیں تھی اعتراض کرنے سے باز نہ آئے تب خدا تعالیٰ نے میری نصرت اور تائید کے لئے لیکھرام کے مارے جانے کا نشان دکھلایا۔
ایسا ہی جب میرا پہلا لڑکا فوت ہو گیا تو نادان مولویوں اور اُن کے دوستوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں نے اُس کے مرنے پر بہت خوشی ظاہر کی اور بار بار اُن کو کہا گیا کہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں یہ بھی ایک پیشگوئی ہے کہ بعض لڑکے فوت بھی ہوں گے۔ پس ضرور تھا کہ کوئی لڑکا خورد سالی میں فوت ہو جاتا تب بھی وہ لوگ اعتراض سے باز نہ آئے تب خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے