انّی مھین من اراد اھانتککے محی الدین کو میری زندگی میں ہی ہلاک کرکے اس کی ذلت ظاہر کر دی اور نہ صرف اِس قدر بلکہ اُس کے الہام انّ شانئک ھوالابتر کے بعدنہ صرف تین بیٹے اور مجھ کو دیئے بلکہ یہ بھی کیا کہ اس کی بیوی کو لاولد رکھا اور اِس طرح پر میری عزت کاثبوت دُنیا پر ظاہرکیا خدا تعالیٰ سے بڑھ کر اپنے وفادار بندوں کے لئے کون غیرتمند ہو سکتا ہے اُس نے میرے لئے غیرت دکھلائی۔ افسوس کہ عبد الرحمن محی الدین نے باوجود مولوی اور ملہم کہلانے کے خدا تعالیٰ سے کچھ خوف نہ کیا اور وعید 33۱؂سے کچھ نہ ڈرا۔ تب خدا تعالیٰ کے وعدہ انّی مھین من اراد اھانتک نے اس کو پکڑ لیا پس میرے لئے یہ ایک بڑا ؔ نشان ہے کہ جو شخص میرے تباہ کرنے کے لئے ایک الہام پیش کرتا تھا وہ خود ہی تباہ اور ہلاک ہو گیا۔ چونکہ عبد الرحمن محی الدین علماء کے خاندان میں سے تھا اور ہزاروں انسانوں پر اُس کا اثر تھا اور علاوہ اس کے وہ پیرزادگی اور الہام کا بھی مدعی تھا اور اُس نواح میں ایک بڑا مشہور اور مرجع خلائق تھا۔ اِس لئے خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ اس کے قول سے لوگ ہلاک ہوں۔ پس یہی بھید ہے کہ اس کے الہام کے بعد جس کے رو سے وہ میری ہلاکت اور تباہی کا منتظر تھا خدا نے اُسی کو ہلاک کیا اور میرے پر صدہا برکتیں نازل کیں اور الہام 3کے بعد اُسی پر دروازہ نسل بند کر دیا اور مجھے اُس کے الہام کے بعد تین بیٹے اور دیئے۔ کہاں گیا اُس کا الہام 3۔کون اس میں شک کر سکتا ہے کہ اگر یہ الہام اُس کا پورا ہو جاتا اور وہ زندہ رہتا اور میں ہلاک ہو جاتا اور اُس کے اولاد ہوتی اور میں ابتررہ جاتا تو وہ لاکھوں انسانوں میں کراماتی مشہور ہو جاتا آگے اُن کا پیر زادگی کا خاندان تھا ہی پس اِس کرامت سے تو لکھوکے والا اسم بامسمّٰی ہو جاتا اور لاکھوں انسان لکھو کے والہ کی طرف رجوع کرتے سو خدا نے بموجب مثل پنجابی ایک دم میں لکھ توں کَکھ کر دیا اورحج کرنا بھی اُس کو مفید نہ ہوا۔ اور مکہ اور مدینہ کی راہ میں ہی فوت ہو گیا کیونکہ خانہ کعبہ ظالم کو بچا نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ جو شخص میرے ذلیل کرنے کے ارادہ کو انتہا تک پہنچا دیتا