اِسؔ الہام میں انہوں نے اپنے خیال میں مجھ کو فرعون قرار دیا ہے جیسا کہ خود انہوں نے اس خط میں اس کی تصریح کی ہے لیکن تعجب کہ کیسے بڑے ادب سے خدا نے مجھ کو پکارا ہے کہ مرزا نے نہیں کہا بلکہ میرزا صاحب کہا ہے چاہیئے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ سے ادب سیکھیں اور پھر دوسرا تعجب یہ کہ باوجود اس کے کہ میری طرف سے یہ درخواست تھی کہ الہام میں میرا نام ظاہر کیا جائے مگر پھر بھی خدا کو میرا نام لینے سے شرم دامنگیرہو گئی اور شرم کے غلبہ نے میرا نام زبان پر لانے اس معاملہ میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے اور جو تکلیف تجھے پہنچے گی وہ تو خدا کی طرف سے ہے اس فتویٰ سے تیرے پر ایک فتنہ برپا ہو جائے گا پس صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔ یاد رکھ کہ یہ تکفیر کا فتنہ خدا کی طرف سے ظاہر ہوگا تا وہ تجھ سے بہت پیار کرے۔ یہ اُس کریم کا پیار ہے جو عزیز اور بزرگ ہے اور یہ وہ عطا ہے کہ کبھی واپس نہیں لی جائے گی۔ اب اس جگہ آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ خدا نے مجھے اس جگہ موسیٰ ٹھہرایا اور مستفتی اور مفتی کو فرعون اور ہامان ٹھہرایا اور مولوی محی الدین نے تو یہ الہام ۱۳۱۲ھ میں ظاہر کیا جیسا کہ اُن کے خط کی تاریخؔ سے ظاہر ہوتا ہے۔ پس بموجب مقولہ مشہورہ کہ الفضل للمتقدم زیادہ اعتبار کے لائق یہی الہام ہے پھر اس کی تائید میں میری کتاب ازالۃ االاوھام کے صفحہ ۸۵۵ میں ایک اور وحی الٰہی ہے اور وہ یہ ہے نرید ان ننزل علیک اسرارًا من السّماء و نمزّق الاعداء کل ممزّق و نری فرعون و ھامان وجنودھما ما کانوا یحذرون۔ یعنی ہم ارادہ کرتے ہیں کہ تیرے پر آسمانی نشان نازل کریں گے اور اُن سے دشمنوں کو ہم پیس ڈالیں گے اور فرعون اور ہامان اور اُن کے جنود کو ہم وہ اپنے کرشمہ قدرت دکھائیں گے جن کے ظہور سے وہ ڈرتے تھے اب دیکھو اس جگہ بھی خدا تعالیٰ نے اوّل المکفرین کا نام فرعون اور ہامان رکھا اور یہ کتاب ۱۸۹۱ء میں چھپی ہے ۔پس یہ الہام بھی محی الدین کے الہام سے چار برس پہلے ہے کیونکہ اُن کے خط میں جس میں یہ الہام ہے ۱۳۱۲ ہجری لکھا ہے اور یہ ۱۸۹۱ء میں۔ پس جو مقدّم ہے اس کی رعایت مقدّم ہے اور مولوی محی الدین صاحب کے خط میں بتصریح موجود ہے کہ انہوں نے مجھے فرعون قرار دیا ہے اور اخویم حکیم نوردین صاحب کو ہامان قرار دیا ہے آپ موسیٰ صفات بنے ہیں مگر یہ تعجب کی بات ہے کہ فرعون اور ہامان تو اب تک زندہ ہیں اور موسیٰ اس جہان سے گذر گیا۔ چاہئے تھا کہ الہامی تشبیہ کو پورا کرنے کے لئے ہمیں ہلاک کرکے مرتے مگر یہ کیا ہوا کہ آپ ہی ہلاک ہو گئے۔ کیا کوئی اس کا جواب دے سکتا ہے۔ منہ