ے اُس کو روک دیا۔کیا میرا نام مرزا صاحب ہے کیا دنیامیں اور کوئی مرزا صاحب کے نام سے پکارا نہیں جاتا۔اور پھر تیسرا تعجب یہ کہ میں تو الہام کی رُو سے فرعون ٹھہرا اور محیؔ الدین صاحب قائم مقام موسیٰ ہوئے۔ پس چاہیئے تھا کہ موسیٰ کی زندگی میں میں مر جاتا نہ کہ موسیٰ ہی ہلاک ہو جاتا۔ محی الدین صاحب کی بد دعاؤں کا سلسلہ جاری تھا اور میری ہلاکت کے لئے وہ کئی الہام بھی دیکھ چکے تھے پھر یہ کیا ہوا کہ وہ سب الہام اُنہیں پر پڑ گئے اور میری جگہ وہ مر گئے کیا یہ عجیب نہیں ہے کہ جس کو انہوں نے فرعون قرار دیا تھا وہ تو اب تک زندہ ہے جو بول رہا ہے بلکہ ترقی پر ترقی کر رہا ہے مگر وہ جو موسیٰ کے مشابہ اپنے تئیں سمجھتا تھا وہ کئی سال ہو گئے کہ اس دنیا سے گذر گیا اور اب اُس کا زمین پر نام و نشان نہیں یہ کیسا موسیٰ تھا کہ فرعون کے سامنے ہی اِس جہان کو چھوڑ گیا پھر دوسرا الہام محی الدین صاحب کایہ بھی تھا کہ 33 یعنی تیرا بد گو تباہ کیا جائے گا اور لاولد رہے گا اور لاولد مرے گا۔ اِس الہام میں اُن کے خیال میں میری ہلاکت اور تباہی اور لاولد مرنے کی طرف اشارہ تھا۔* سو الحمدللہ کہ میں اب تک زندہ ہوں۔ میاں محی الدین صاحب قریباً د۱۰س برس ہوئے ہیں کہ فوت ہو گئے اور اُن کے اِس الہام کے بعد میرے تین بیٹے اور ہوئے اور اگر اس الہام کے بعد محی الدین صاحب کے گھر میں بھی کوئی لڑکا ہوا ہے جو زندہ ہے تو میں عہد کرتا ہوں کہ مَیں اُن کی بیوی کو ایک سو۱۰۰ روپیہ نقد دوں گا ورنہ ظاہر ہے کہ یہ الہام اُن کا اُنہیں پر صادق آیا میں نے معتبر ذریعہ سے یہ سُنا ہے کہ اس الہام کے بعد کوئی لڑکا نہیں ہوا بلکہ ایک جوان لڑکا مر گیا اور صرف ایک * مباہلہ کا صرف یہی اثر نہیں کہ مولوی محی الدین صاحب اپنی اس دعا کے بعد کہ انّ شانئک ھوالابتر۔ خود مر گئے اور ایک لڑکا اٹھا۱۸رہ برس کا مر گیابلکہ میں نے بعض عورتوں کو اُن کے گھر میں بھیج کر دریافت کیا ہے کہ ان کی بیوی خود اپنی زبان سے کہتی ہے کہ اس بد دعا کے بعد اُن کے گھر کا تختہ اُلٹ گیا۔ مولوی محی الدین بہت جلد مکہ اور مدینہ کی راہ میں فوت ہو گئے اور اس قدر تنگی اور تکلیف دامنگیر ہوئی کہ اب صرف گدا گری پر گذارہ ہے چند دیہات سے بطور گدائی آٹا لاتے ہیں تو اس سے پیٹ بھرتے ہیں اور جس دن آٹا نہ آوے اُس روز فاقہ۔ اُن کی بیوی کہتی تھی کہ اب ہمارے پر رات پڑ گئی ہے۔ منہ