ازاں ماہ صفر کو یہ الہام خواب میں ہوا مرزا صاحب فرعون الحمدللّٰہ علٰی ذالک اب مرزا کا دعویٰ بھی غلط ہو گیا اور مرزا صاحب مراد کو پہنچ گئے اور جس وقت مجھ کو پہلا الہام ہواؔ تھا بیدار ہوتے ہی یہ تعبیر دل میں آئی کہ فرعون مرزا صاحب ہیں اور ہامان نوردین مجھے اہل اسلام کی خیر خواہی کے لئے اطلاع دینی ضرور تھی۔
ہُن تُوں بھی حق کہن دے اُتّے لک بنّہیں بھراوا
اہلِ نفاق بلائیں بُریاں لوکاں دین بُھلاوا
العبد
عبد الرحمن محی الدین لکھوکے بقلمہٖ بتاریخ ۲۱؍ماہ ربیع الاوّل ۱۳۱۲ھ
یہ ہے خط مولوی عبد الرحمن محی الدین کا اور بعد نقل کے بخدمت مکرمی مولوی حکیم نور دین صاحب واپس کیا گیا۔ مولوی صاحب موصوف اس کو حفاظت سے رکھیں گے جس کا جی چاہے دیکھ لے
بقیہ حاشیہ
ہے۔ واذ یمکربک الذی کفر* اوقِدْ لِیْ یا ھامان لعلیّ اطلع علٰی الٰہِ موسٰی وانّی لاظنّہٗ ۔منؔ الکاذبین۔ تبّت یدا ابی لھب و تب۔ ما کان لہٗ ان ید خل فیھا الّا خائفا۔ وما اصابتک فمن اللّٰہ الفتنۃ ھٰھُنَا فاصبر کما صبر اولوالعزم۔ الا انّھا فتنۃ من اللّٰہ۔ لیحبّ حبّا جمّا۔ حبًّا من اللّٰہ العزیز الاکرم عطاءً غیر مجذوذ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۰ و صفحہ ۵۱۱ ترجمہ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ ایک فرعون تجھے کافر ٹھہرائے گا اور اپنے رفیق ہامان کو کہے گا کہ تو تکفیر کی آگ بھڑکا دے یعنی ایسا تیز فتویٰ لکھ کہ لوگ اُس فتوے کو دیکھ کر اُس شخص کے دشمن جانی ہو جائیں اور کافر سمجھنے لگیں تاکہ میں دیکھوں کہ اس موسیٰ کا خدا اس کی کچھ مدد کرتا ہے یا نہیں اور میں تو اس کو جھوٹا خیال کرتا ہوں۔ ابی لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے جن سے اُس نے فتویٰ لکھا تھا اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا اُس کو نہیں چاہیئے تھا کہ
* یاد رہے کہ اس وحی الٰہی میں دونوں قراء تیں ہیں کَفَر بھی اورکَفّربھی۔ اور اگرکفرکی قراء ت کی رو سے معنے کئے جائیں تو یہ معنی ہوں گے کہ پہلے شخص مستفتی میرے پر اعتقاد رکھتا ہو گا اور معتقدین میں داخل ہو گا۔ اور پھر بعد میں برگشتہ اور منکر ہو جائے گا۔ اور یہ معنی مولوی محمد حسین بٹالوی پر بہت چسپاں ہیں جنہوں نے براہین احمدیہ کے ریویو میں میری نسبت ایسا اعتقاد ظاہر کیا کہ اپنے ماں باپ بھی میرے پر فدا کر دیئے۔منہ