اور بعد میں ظاہر کروں گا کہ وہ کیونکر میرے لئے نشان ہے اور وہ خط یہ ہے:
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم حامدًا وَ مصلّیًا
امّا بعد از عبد الرحمن محی الدین بجمیع اہلِ اسلام عرض یہ ہے کہ اس عاجز نے دعا کی کہ یا خبیر اخبرنیمرزاؔ کا کیا حال ہے خواب میں یہ الہام ہوا ان فرعون وھامان
و جنودھما کانوا خاطئین۔ وان شانئک ھو الا بتر۔* مرزا صاحب کی طرف سے جواب آیا کہ یہ الہام محتمل المعانی ہیں اِس میں میرا نام نہیں اور بڑے زور*دعویٰ کیا کہ میرے نام سے الہام نہ بخشاجائے گا۔ ہر دو الہام مذکور ماہ صفر کو ہوئے تھے۔ جب مرزا کا جواب آگیا بعد
* بہت لوگ اپنی خوابوں کے نا سمجھنے کی وجہ سے بھی ہلاک ہو جاتے ہیں مولوی عبد الرحمن محی الدین صاحب کی یہ دُعا اِس بناء پر تھی کہ مرزا کو جو مولوی نذیر حسین دہلوی اور اُن کے شاگرد مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی اور اُن کے باقی جنود نے کافر قرار دیا ہے کیا وہ حقیقت میں کافر ہے خدا کے نزدیک اس کا کیا حال ہے تب اس کے جواب میں (اگر ہم محی الدین کے الہام کو سچا سمجھ لیں) خدا نے فرمایا انّ فرعون وھامان وجنودھما کانوا خاطئین۔ پس ہم اس الہام کے یہ معنے کریں گے کہ اس الہام میں خدا تعالیٰ نے دو مولویوں کو جو تکفیر کے بانی تھے فرعون اور ہامان قرار دیا اور فرمایا کہ وہ دونوں اور اُن کے متبعین تکفیر میں خطا پر تھے اور استعارہ کے رنگ میں سب سے اول کفر کا فتویٰ دینے والے کو فرعون قرار دیا اور جس نے استفتا لکھا تھا اس کو ہامان ٹھہرا دیا اور باقی ہزار ہا مولوی وغیرہ جو پنجاب اور ہندوستان میں ان کی اس تکفیر میں پیرو ہوئے اُن کو ان کا لشکر قرار دیا۔ اگر مولوی محی الدین بد قسمت نہ ہوتا تو یہ معنے بہت صاف تھے کیوں فرعون اور ہامان کا طریق انہیں لوگوں نے اختیار کیا تھا جو بغیر تحقیق کے مجھے نابود کرنے کے درپے ہو گئے اور میرے پر ایک طوفان برپا کر دیا تھا اور اِس پر ایک اور دلیل یہ ہے کہ براہین میں آج سے چھبیس۲۶ برس پہلے ان دونوں صاحبوں کو بطور پیشگوئی کے فرعون اور ہامان کہا گیا ہے چنانچہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ و ۵۱۱ میں یہ عبارت
* زور کے آگے لفظ سے چاہیے تھا جو کہ راقم کی تحریر میں نہیں اس لئے نہیں لکھا گیا۔ من
* بہت لوگ اپنی خوابوں کے نا سمجھنے کی وجہ سے بھی ہلاک ہو جاتے ہیں مولوی عبد الرحمن محی الدین صاحب کی یہ دُعا اِس بناء پر تھی کہ مرزا کو جو مولوی نذیر حسین دہلوی اور اُن کے شاگرد مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی اور اُن کے باقی جنود نے کافر قرار دیا ہے کیا وہ حقیقت میں کافر ہے خدا کے نزدیک اس کا کیا حال ہے تب اس کے جواب میں (اگر ہم محی الدین کے الہام کو سچا سمجھ لیں) خدا نے فرمایا انّ فرعون وھامان وجنودھما کانوا خاطئین۔ پس ہم اس الہام کے یہ معنے کریں گے کہ اس الہام میں خدا تعالیٰ نے دو مولویوں کو جو تکفیر کے بانی تھے فرعون اور ہامان قرار دیا اور فرمایا کہ وہ دونوں اور اُن کے متبعین تکفیر میں خطا پر تھے اور استعارہ کے رنگ میں سب سے اول کفر کا فتویٰ دینے والے کو فرعون قرار دیا اور جس نے استفتا لکھا تھا اس کو ہامان ٹھہرا دیا اور باقی ہزار ہا مولوی وغیرہ جو پنجاب اور ہندوستان میں ان کی اس تکفیر میں پیرو ہوئے اُن کو ان کا لشکر قرار دیا۔ اگر مولوی محی الدین بد قسمت نہ ہوتا تو یہ معنے بہت صاف تھے کیوں فرعون اور ہامان کا طریق انہیں لوگوں نے اختیار کیا تھا جو بغیر تحقیق کے مجھے نابود کرنے کے درپے ہو گئے اور میرے پر ایک طوفان برپا کر دیا تھا اور اِس پر ایک اور دلیل یہ ہے کہ براہین میں آج سے چھبیس۲۶ برس پہلے ان دونوں صاحبوں کو بطور پیشگوئی کے فرعون اور ہامان کہا گیا ہے چنانچہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ و ۵۱۱ میں یہ عبارت
* زور کے آگے لفظ سے چاہیے تھا جو کہ راقم کی تحریر میں نہیں اس لئے نہیں لکھا گیا۔ من