اِس جگہ منصفین خیال کریں اور خدا تعالیٰ سے خوف کرکے سوچیں کہ کیا یہ علم غیبؔ کسی انسان کی طاقت میں داخل ہے کہ خود افترا کرکے کہے کہ ضرور میرے گھر میں چوتھا لڑکا پیدا ہوگا اور ضرور ہے کہ فلاں شخص اُس وقت تک جِیتا رہے گا اور پھر ایسا ہی ظہور میں آوے کیا دنیا میں اس کی کوئی نظیر موجود ہے کہ خدا نے کسی مُفتری کی ایسی تائید کی کہ دونوں پہلوؤں سے اُس کو سچا کرکے دکھلادیا یعنی چوتھا لڑکا بھی دے دیا اور اُس وقت تک اُس کے دشمن کو پیشگوئی کے مطابق زندہ رہنے دیا۔ اور یاد رہے کہ یہ مباہلہ کی صدہا برکات میں سے ایک یہ برکت ہے جو مجھے دی گئی کہ خدا نے مباہلہ کے بعد تین لڑکے مجھے عطا فرمائے یعنی شریف۱ احمد، مبارک ۲احمد ، نصیر ۳احمد۔ اب ہم اگر عبدالحق کے ابتر ہونے کی بابت غلطی کرتے ہیں تو وہ بتلاوے کہ مباہلہ کے بعد اُس کے گھر میں کتنے لڑکے پیدا ہوئے اور وہ کہاں ہیں ورنہ کوئی پہلا لڑکا ہی ہمیں دکھلا دے۔* اگر یہ *** کا اثر نہیں تو اور کیا ہے اور میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ جیسا کہ عبد الحق مباہلہ کے بعد ہر ایک برکت سے محروم رہا اسی طرح اُس کے مقابل پر میرے پر خدا کا وہ فضل ہوا کہ کوئی دنیا اور دین کی برکت نہیں جو مجھے نہیں ملی اولاد میں برکت ہوئی کہ بجائے دو کے پانچ ہو گئے۔ مال میں برکت ہوئی کہ کئی لاکھ روپیہ آیا۔ عزّت میں برکت ہوئی کہ کئی لاکھ انسان نے میری بیعت کی۔ خدا کی تائید میں برکت ہوئی کہ صدہا نشان میرے لئے ظاہر ہوئے۔ ۱۶۰ ۔نشان۔ اس وقت مولوی عبد الرحمن محی الدین لکھوکے والے کا اپنی قلم سے لکھا ہوا ایک خط میرے ہاتھ میں ہے جس کو اسی وقت میرے دوست فاضل جلیل مولوی حکیم نور دین صاحب نے مجھ کو دیا ہے اور میں اس کو اپنے خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں اِس لئے اصل خط دستخطی مولوی صاحب مذکور کی نقل ذیل میں لکھتا ہوں