مولوؔ ی عبد الحق عزنوی کے مقابل پر لکھی گئی تھی جس کی عبارت یہ ہے کہ عبد الحق کے مباہلہ کے بعد ہر ایک قسم سے خدا تعالیٰ نے مجھے ترقی دی ہماری جماعت کو ہزار ہا تک پہنچا دیا ہماری علمیت کا لاکھوں کو قائل کر دیا اور الہام کے مطابق مباہلہ کے بعد ایک اور لڑکا ہمیں عطا کیا جس کے پیدا ہونے سے تین لڑکے ہو گئے اور پھر ایک چو۴تھے لڑکے کے لئے مجھے متواتر الہام کیا اور ہم عبدالحق کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ نہیں مرے گا جب تک اِس الہام کو پوراہوتا نہ سُن لے۔ اب اس کو چاہیئے کہ اگر وہ کچھ چیز ہے تو دعا سے اِس پیشگوئی کو ٹال دے دیکھو میری کتاب انجام آتھم صفحہ ۵۸۔ یہ پیشگوئی ہے جو چوتھے لڑکے کے بارے میں کی گئی تھی پھر اِس پیشگوئی سے اڑھائی برس بعد چوتھا لڑکا عبد الحق کی زندگی میں ہی پیدا ہو گیا جس کا نام مبارک احمد رکھا گیا جو اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ موجود ہے۔ اگر مولوی عبد الحق نے اس لڑکے کا پیدا ہونا اب تک نہیں سُنا تو اب ہم سُنائے دیتے ہیں یہ کس قدر عظیم الشان نشان ہے کہ دونوں پہلوؤں سے سچا نکلا عبدالحق بھی لڑکے کے تولّد تک زندہ رہا اور لڑکا بھی پیدا ہو گیا اور پھر یہ کہ اس بارے میں عبد الحق کی کوئی بد دعا منظور نہ ہوئی اور وہ اپنی بددعا سے میرے اس موعود لڑکے کا پیدا ہونا روک نہ سکا بلکہ بجائے ایک لڑکے کے تین لڑکے پیدا ہوئے اور دوسری طرف عبد الحق کا یہ حال ہوا کہ مباہلہ کے بعد عبد الحق کے گھر میں آج تک باوجود بار۱۲ہ برس گذرنے کے ایک بچہ بھی پیدا نہ ہوا اور ظاہر ہے کہ مباہلہ کے بعد قطع نسل ہو جانا اور باوجود بار۱۲ہ برس گذرنے کے ایک بچہ بھی پیدا نہ ہونا اور بالکل ابتر رہنا یہ بھی قہر الٰہی ہے اور موت کے برابر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے3 یاد رہے کہ اسی بد گوئی کے ساتھ ہی عبد الحق کے گھر میں کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا بلکہ لاولد اور ابتر اور اس برکت سے بالکل بے نصیب رہا اور بھائی مر گیا اور مباہلہ کے بعد بجائے لڑکا پیدا ہونے کے عزیز بھائی بھی دارالفنا میں پہنچ گیا۔*