بہت سینے ہیں جو میں نے مجروح کئے اور کرتا ہوں
حاؔ ربتُ کلّ مُکذّبٍ وبِآخرٍ
للحرب دائرۃٌ علیک فتعلم
میں نے ہر ایک مکذّب سے لڑائی کی ہے
اب آخری نوبت میں لڑائی کے چکر میں تو آگیا پس عنقریب جان لے گا
لی فیک من ربٍّ قدیرٍ اٰیۃٌ
ان کنت لا تدری فانا نعلم
تجھ میں میرے خدا کی طرف سے ایک نشان ہے
اگر تو نہیں جانتا تو ہم جانتے ہیں
قد قلتَ دجّالٌ وقلتَ قد افتریٰ
تھذی وفی صف الوغٰی تتجشّم
تونے کہا کہ یہ شخص دجّال ہے اور خدا تعالیٰ پر افترا کرتا ہے
تو بکواس کر رہا ہے اور لڑائی میں تکلیف کر رہا ہے
والحکم حکم اللّٰہ یا عبد الھویٰ
یُبْدیْک یومًا ما تسر و تکتم
اور حکم خدا کا حکم ہے اے حرص کے بندے
ایک دن وہ تجھے جتلا دے گا جو کچھ تو پوشیدہ کرتا ہے
الحق درع عاصم فیصوننی
فاحذر فانی فارس مُسْتَلْحِمُ
حق ایک سچائی والی درع ہے جو مجھے بچائے گی
پس خوف کر کہ میں ایک سوار پیچھا کرنے والا ہوں
۱۵۸ ۔نشان۔ واضح ہو کہ مولوی صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کی شہادت کے بعد جو کچھ کابل میں ظہور میں آیا وہ بھی میرے لئے خدا کی طرف سے ایک نشان ہے کیونکہ مظلوم شہید مرحوم کے قتل سے میری سخت اہانت کی گئی اس لئے خدا کے قہر نے کابل پر غضب کی تلوار کھینچی۔ اِس مظلوم شہید کے قتل کئے جانے کے بعد سخت ہیضہ کابل میں پھوٹا اور وہ لوگ جو مشورۂ شہید مظلوم کے قتل میں شریک تھے اکثر ہیضہ کے شکار ہو گئے اور خود امیر کابل کے گھروں میں بعض موتوں سے ماتم برپا ہو گیا اور کئی ہزار انسان جو اِس قتل سے خوش تھے شکار مرگ ہو گئے اور وبائے ہیضہ کا ایسا سخت طوفان آیا کہ کہتے ہیں کہ کابل میں ایسا ہیضہ گذشتہ زمانوں میں بہت کم دیکھنے میں آیا ہے اور الہام اِنّی مھینٌ من اراد اھانتک اِس جگہ بھی پورا ہوا۔
بنگر کہ خونِ ناحق پروانہ شمع را
چندان امان نہ داد کہ شب راسحر کند
۱۵۹۔ نشان۔ میری کتاب انجام آتھم کے صفحہ اٹھا۵۸ون میں ایک یہ پیشگوئی تھی جو